Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں تین مساجد کو مشتبہ پیاکیج موصول

برطانیہ میں تین مساجد کو مشتبہ پیاکیج موصول

سرکاری ادارے بھی نشانہ ، نسلی فقرے درج ، تحقیقات جاری
لندن۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں کم از کم تین مساجد اور بینک آف انگلینڈ کو مشتبہ پیاکیجس موصول ہوئے جن میں سفید پاؤڈر تھا اور انتہائی نفرت انگیز اور نسلی امتیاز پر مبنی تحریریں درج تھیں۔ برطانوی پولیس نے مسلمانوں اور سرکاری اداروں کے خلاف ’’نفرت پر مبنی ڈاک مہم‘‘ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کی اطلاع کے مطابق انہیں اس نفرت انگیز مہم میں دائیں بازو کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ مشتبہ پیاکیجس جن میں سفید پاؤڈر موجود تھا، تقریباً چھ مقامات کو موصول ہوا۔ ان میں ہاؤز آف لارڈ میں پاکستانی نژاد مسلم رکن بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لندن میں واقع تین مساجد اور ایک بینک آف انگلینڈ کو بھی یہ پیاکٹس موصول ہوئے۔ سمجھا جاتا ہے کہ شمالی انگلینڈ کے شفیلڈ علاقہ سے یہ پیاکٹس بھیجے گئے ہیں، ان میں سے بعض پر نازیبا اور نسلی فقرے لکھے ہوئے ہیں۔ سارے معاملے کی تحقیقات نارتھ ایسٹ انسداد دہشت گردی یونٹ کے سپرد کی گئی ہے۔ ان پیاکٹس کا معائنہ کرنے پر سفید پاؤڈر بے ضرر نکلا لیکن یہ اندیشے ابھر رہے ہیں کہ کیمیائی یا حیاتیاتی حملہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ پولیس نے ان تمام مقامات کا معائنہ کیا اور کم از کم 6 پیاکٹس جمعرات کو یکساں طور پر موصول ہوئے ۔ اسی دن 7 جولائی 2005ء دہشت گرد حملے کے 11 سال پورے ہوئے تھے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ اس واقعہ کے پس پردہ سیاسی محرکات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ تین لیٹرس مساجد کو روانہ کئے گئے اور مزید دو لیٹرس بینک آف انگلینڈ کو بھیجے گئے جس کے گورنر مارک کارنے نے ریفرنڈم مہم کے دوران برطانیہ کے یوروپی یونین سے اخراج کے خلاف خبردار کیا تھا۔ اس کے علاوہ مشرقی لندن کے کیننگ ٹاؤن میں گورنمنٹ میل اسکریننگ سرویس کے دفاتر کو بھی یہ لیٹرس موصول ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT