Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ برقرار: تھریسامے

برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ برقرار: تھریسامے

کابینہ کی کوبرا کمیٹی کا خصوصی اجلاس ، اگلا حملہ کسی بھی وقت ممکن
لندن۔24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں شمالی شہر مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ ایریانا گرینڈے کے ایک پروگرام کے بعد ہوئے خودکش بم دھماکہ کے بعد برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے اس لئے برطانیہ کے اہم علاقوں میں اضافی فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔مانچیسٹر ارینا میں ہوئے حملہ کے سلسلے میں برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ عام لوگوں کو ایک بزدلانہ دہشت گرد حملہ کا شکار بنایا گیا ہے ۔مانچیسٹر کے چیف کانسٹبل ایان ہاپکنس نے بتایا کہ مانچیسٹر ایرینا میں ہوئے اس خودکش بم دھماکہ میں کچھ بچوں سمیت 22 افراد ہلاک اور 59 دیگر زخمی ہوگئے ۔برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے نے خبردار کیا ہے کہ مانچیسٹر حملے کے بعد برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہو سکتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے خطرے کی سطح کو بڑھا دیا گیا ہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیوں کہ تحقیقاتی ادارے اب تک اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ آیا سلمان عبیدی حملے میں اکیلا ملوث تھا یا اس کو کسی کی مدد حاصل تھی۔ تھریسامے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ مانچیسٹر حملے میں ایک شخص نہیں بلکہ ‘کوئی تنظیم ‘ ملوث ہو۔مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا ذمہ دار 22 سالی لیبیائی نژاد شخص سلمان عبیدی تھا۔ سلمان عبیدی 31 دسمبر 1994 میں مانچیسٹر میں پیدا ہوا۔اطلاعات کے مطابق اس کے تین بہن بھائی ہیں: ایک بڑا بھائی جو لندن میں پیدا ہوا اور اور سلمان عبیدی سے چھوٹی ایک بہن اور بھائی جو مانچیسٹر میں پیدا ہوئے ۔واضح رہے کہ اس خودکش حملہ کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ نے لی ہے ۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے اس پروگرام میں دھماکہ خیز آلات نصب کئے تھے جس میں دھماکہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا، مانچیسٹر شہر میں ہجوم کے درمیان اس کے ایک جنگجو نے یہ دھماکہ خیز آلہ لگایا تھا۔برطانیہ میں حملے کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے منگل کی شام کابینہ کی ‘کوبرا’ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ملک میں حملے کے خطرے کی سطح کو بڑھا کر ‘کریٹیکل’ کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلا حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے ۔2014 ء سے برطانیہ میں حملے کے خطرے کی سطح اس سے ایک درجہ کم تھی جس کا مطلب تھا کہ ‘حملے کے امکانات بہت زیادہ ہیں’۔خطرے کی سطح کو انتہائی درجے تک اس سے پہلے صرف دو مرتبہ کیا گیا ہے ۔ پہلی بار 2006  ء میں اس وقت کیا گیا تھا جب ٹرانس اٹلانٹک فلائٹس پر مائع بموں کی مدد سے حملہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔ اور اس سے اگلے سال اس وقت کیا گیا تھا جب لندن میں ایک نائٹ کلب کو بم سے اڑانے کی کوشش کرنے والے شخص کی تلاش کی جا رہی تھی جس نے بعد میں جا کر گلاسگو ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ‘آپریشن ٹیمپیرر’ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے تحت عوام کے تحفظ کے لیے اہم عوامی مقامات پر مسلح پولیس کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کیا جائے گا۔محترمہ تھریسامے کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں پولیس کو مختلف جگہوں پر جیسا کے کنسرٹس وغیرہ میں بھی تعینات کیا جائے گا اور وہ پولیس آفسروں کے ماتحت کام کریں گے ۔پولیس نے مانچیسٹر کے جنوبی علاقے چورلٹن سے ایک 23 سالہ شخص کو حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا ہے ۔حملے میں ہلاک ہونے والے 22 افراد میں سے تین کی شناخت ظاہر کی گئی جس میں آٹھ سالہ سیفی روز روسو، 18 سالہ جیورجینا اور 28 سالہ جان ایٹکنس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں 12 بچوں کی عمریں 16 سال سے کم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT