Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں غیرقانونی ورکرس کا عرصۂ حیات تنگ

برطانیہ میں غیرقانونی ورکرس کا عرصۂ حیات تنگ

نئی قانون سازی زیرغور، مختلف مقامات پر دھاوؤں کا منصوبہ، پانچ سال سزائے قید کی تجویز

لندن ۔ 25 اگست (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف اب کارروائیاں مزید سخت ہونے والی ہیں اور جو بھی غیرقانونی طور پر یہاں ملازمت کرتا ہوا پایا گیا تو اسے چھ ماہ کی سزائے قید کے علاوہ اس کی تنخواہ کی رقم بھی ضبط کرلی جائے گی۔ حکومت نے آج ان تجاویز کا اعلان کیا جو توقع ہیکہ ملک کے نئے امیگریشن بل میں شامل کی جائیں گی۔ خزاں میں ہونے والے پارلیمانی سیشن میں اس بل کو متعارف کیا جائے گا۔ غیرقانونی طور پر ورکرس کو ملازمت فراہم کرنے والے آجرین کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ امیگریشن منسٹر جیمس بروکن شائر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہیکہ برطانیہ ایک آسان نشانہ ہے اور یہاں جیسے تیسے بھی کام چلایا جاسکتا ہے، ان کے لئے جو یہاں غیرقانونی طور پر مقیم ہیں انہیں نہ صرف ملازمت کرنے سے روک دیا جائے گا بلکہ وہ کرائے پر کوئی مکان بھی نہیں لے سکیں گے اور نہ ہی بینک اکاونٹ کھول سکیں گے اور نہ کار ڈرائیور کرسکیں گے۔ برطانیہ ایک ایسا ملک ہے جہاں اب امیگریشن سسٹم کو باقاعدہ بنایا جائے گا اور غیرقانونی ورکرس کے خلاف کارروائیاں تیز تر کردی جائیں گی۔

یہ نہ صرف برطانوی شہریوں کے لئے بلکہ ایسے بیرونی افراد کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا جو قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں آج امیگریشن بحث کا ایک پسندیدہ موضوع بن گیا ہے۔ کنزرویٹیو پارٹی حکومت سے قبل ازیں بھی کئی اعلانات کئے ہیں اور غیرقانونی امیگریشن سے متعلق یہ تازہ ترین اعلان ہے جس میں غیرقانونی طور پر غیرقانونی ورکرس کو ملازمت فراہم کرنے والی کمپنیاں، ریستورانس اور دیگر اداروں پر بھی جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ اس بارے میں اب عہدیدار غوروخوض کررہے ہیں کہ غیرقانونی ورکرس میں کیا ٹیکسی ڈرائیورس اور آپریٹرس کو شامل کیا جائے

یا نہیں۔ کوئی بھی آجر یہ جھوٹا دعویؤ نہیں کرسکتا کہ وہ کسی غیرقانونی طور پر ملازم رکھے ہوئے فرد کو نہیں جانتا یا یہ نہیں جانتا کہ وہ غیرقانونی طور پر یہاں مقیم ہے۔ لہٰذا آجر یا ملازمت فراہم کرنے والوں کو قصوروار پایا گیا تو انہیں پانچ سال کی سزائے قید دی جائے گی جو اس سے قبل دو سال کی تھی جبکہ انہیں جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا جس کا اطلاق پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ اس سلسلہ میں امیگریشن افسران مختلف مقامات پر دھاوے کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں جن میں تعمیراتی مقامات، کیئر ہومس اور کلیننگ کنٹراکٹرس شامل ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ برطانیہ کے علاوہ دنیا کے ایسے کئی ممالک ہیں جہاں لوگ بہتر مستقبل کے لئے غیرقانونی طریقہ کا سہارا لیتے ہیں تاکہ وہ اتنا پیسہ کما لیں کہ مابقی زندگی چین و سکون سے گذار سکیں۔ قانونی طور پر امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ جانے کا عمل تھوڑا سا دشوار ضرور ہے لیکن قانونی طور پر کام کرنے والوں کا ہی مستقبل نہ صرف تابناک بلکہ محفوظ بھی ہوتا ہے جبکہ یہی بات غیرقانونی ورکرس کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT