Tuesday , May 23 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں قبل ازوقت انتخابات کے فیصلہ کا اچانک اعلان

برطانیہ میں قبل ازوقت انتخابات کے فیصلہ کا اچانک اعلان

یوروپی یونین سے علیحدگی سے قبل استحکام کو یقینی بنانے تھریسامے کی کوشش، اپوزیشن کا خیرمقدم

لندن 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب یوروپی یونین سے علیحدگی کے لئے برطانیہ انتہائی نازک و پیچیدہ مذاکرات کی تیاریاں کررہی ہے کہ وزیراعظم تھریسامے نے حیرت انگیز قدم اُٹھاتے ہوئے قبل ازوقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جو 8 جون کو مقرر کئے گئے ہیں۔ تھریسامے نے کہاکہ ’’ہمیں عام انتخابات کی ضرورت ہے اور ہم اب ہی یہ (انتخابات) چاہتے ہیں۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل اس مرحلہ پر ہمیں ایسا کرنے کا یہ ایک موقع ہے‘‘۔ تھریسامے نے مزید کہاکہ یوروپی یونین سے علیحدگی کے بعد آئندہ برسوں میں سیاسی استحکام کی ضمانت کے لئے یہی واحد راستہ بھی ہے۔ اُنھوں نے اپنے فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اس فیصلے سے ملک کی سیاسی راہداریوں کو متحد کرنے میں مدد ملے گی۔ مجوزہ قبل ازوقت انتخابات کے لئے پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام میں کل رائے دہی ہوگی۔ نیز 2020 ء میں مقررہ عام انتخابات سے قبل ان کے انعقاد کے لئے تھریسامے کو پارلیمنٹ کی تائید درکار ہوگی۔ مقررہ وقت سے قبل انتخابات کے انعقاد سے متعلق اپنے فیصلہ کے بارے میں تھریسامے نے کہاکہ ’’میں یہ نتیجہ اخذ کرچکی ہوں کہ سیاسی استحکام کی ضمانت اور آنے والے برسوں میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے قبل ازوقت انتخابات کا انعقاد ہی واحد راستہ ہیں‘‘۔ 60 سالہ تھریسامے نے لندن کی 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر اخباری نمائندوں سے خطاب کے دوران خبردار کیاکہ ’’ویسٹ منٹر میں تقسیم و اختلافات یوروپی یونین سے ہماری کامیاب علیحدگی کی صلاحیت کے لئے جوکھم اور پُرخطر ثابت ہوسکتے ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے 2020 میں مقررہ انتخابات کے وقت سے قبل انعقاد کے کسی امکان کی ماضی میں متعدد مرتبہ تردید کی تھیں۔ لیکن کابینہ کے اجلاس کے بعد اُنھوں نے کہاکہ ملک میں اس سال عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈر جرمی کاربن نے وسط مدتی انتخابات کروانے تھریسامے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہاکہ ان کی لیبر پارٹی عوام کو ایک مؤثر متبادل حکومت فراہم کرسکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT