Friday , August 18 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں ملازمت کے خواہشمند مسلم محروم

برطانیہ میں ملازمت کے خواہشمند مسلم محروم

ملازمت حاصل ہونے پر بھی عیسائی اور مسلم ملازمین کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق

لندن ۔ 15جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانیہ میں ملازمت کے خواہشمند مسلمانوں کو محروم ہونا پڑرہا ہے ۔ حکومت برطانیہ نے تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو دیگر عیسائی ملازمین کی بہ نسبت کم تنخواہ دی جاتی ہے ۔ حکومت کے دفتر مساوات نے گذشتہ سال اپنا جواب شائع کروایا تھا جس میں خواتین مساوات انتخابی کمیٹی برائے مواقع روزگار ‘ برائے مسلمس پر سخت تنقید کی گئی تھی ۔ روزنامہ ’’ ایوننگ اسٹینڈرڈ ‘‘ کے بموجب برطانیہ میں 27لاکھ مسلمان اعلیٰ ترین سطح پر ملازمت حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں اور اگر انہیں ملازمت حاصل بھی ہوجاتی ہے تو عیسائی ملازمین کی بہ نسبت انہیں بہت کم تنخواہ ملتی ہیں ۔ جی ای او نے تسلیم کیا کہ جامع معلومات کا فقدان مسلم افراد کی ملازمت حاصل کرنے کے مواقع سے محروم کررہا ہے ‘ انہیں اپنی ترقی میں بھی محروم ہونا پڑرہا ہے ‘اسکے نتیجہ میں ان کا روزگار بھی متاثر ہورہا ہے ۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ شعور کی بیداری حاضرین میں پیدا کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے تاکہ مقام ملازمت پر تعصب کا خاتمہ ہوسکے ۔ محکمہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ رسمی تقرر کے طریقے جن کی بنیاد تعصب پر ہے ہمیشہ اختیار نہیں کئے جاتے ۔ حکومت نے کہا کہ وہ کوئی خصوصی منصوبہ تیار نہیں کرے گی تاکہ مقام ملازمت پر مسلمانوں کے ساتھ مساوات کا برتاؤ کیا جائے ‘ اس کے باوجود رپورٹ کی سفارشات میں اس کو شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے بجائے حکومت چاہتی ہے کہ کام کی ضروریات کو واضح کیا جائے اور کونسی برادریاں ملازمت حاصل کرنے سے محروم رہتی ہیں ان کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں ۔ جی ای او نے کہا کہ یونیورسٹیوں سے خواہش کی جائے گی کہ داخلے کی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ یونیورسٹیوں میں ایشیائی ‘ سفید فام ‘ سیاح فام اور ملی جلی نسلوں کے افراد کی تفصیلات حاصل کی جاسکے  ۔

TOPPOPULARRECENT