Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / برطانیہ میں نظام حیدرآباد کی دولت کا مقدمہ ، ہندوستان کا دعویٰ مسترد

برطانیہ میں نظام حیدرآباد کی دولت کا مقدمہ ، ہندوستان کا دعویٰ مسترد

68 برس کی عدالتی کشاکش بے سود، پاکستان کے حق میں فیصلہ، ایک ملین پاؤنڈ اب 35 ملین پاؤنڈ ہوگئے
حیدرآباد۔21جون(سیاست نیوز) نظام حیدرآباد دکن کی برطانیہ میں موجود متنازعہ دولت کے مقدمہ میں ہندستان کو شکست ہو گئی اور پاکستان نے اس مقدمہ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 35ملین پاؤنڈ پر اپنا حق ثابت کردیا۔ تقسیم ہند کے دوران سلطنت آصفیہ کے آخری حکمراں نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے دولت کی منتقلی کے عمل کے دوران ایک ملین پاؤنڈ رقم برطانیہ منتقل کی تھی او ر یہ رقم حکومت برطانیہ کے توسط سے بینک آف برطانیہ پہنچادی گئی تھی لیکن انضمام حیدرآباد کے بعد نظام حیدرآباد کی اس دولت پر حکومت ہند نے اپنا دعوی پیش کیا اور یہ مقدمہ برسوں سے زیر تصفیہ رہا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اطلاع کے مطابق نظام کی جانب سے برطانیہ میں موجود پاکستانی ہائی کمشنر کی کھاتہ میں جمع یہ رقم جو اب 35ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم ہوچکی ہے جو ہندستانی کرنسی کے مطابق 347کروڑ 61لاکھ 71ہزار 953روپئے ہوتی ہے۔ اس دولت کے حصول کیلئے نہ صرف ہند۔پاک نے دعوی پیش کیا بلکہ نظام کے ورثہ نے بھی اس دولت کو واپس ہندستان لانے کیلئے دعوی پیش کیا تھا جسے برطانوی عدالت نے چند ماہ قبل خارج کر دیا۔تفصیلات کے بموجب 75صفحات پر مشتمل فیصلہ میں برطانوی عدالت کے جج نے پاکستان کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس رقم کا حقدار قرار دیا اور ہندستان کے دعوے کو خارج کردیا۔68برسوں سے جاری اس مقدمہ میں فاضل جج جے ۔ ہینڈرسن نے فیصلہ میں کہا کہ 20ستمبر 1948کو برطانوی بینک میں پاکستانی ہائی کمشنر کے نام پر جمع کردہ رقم کے دستاویزات پاکستان کے ادعا کو ثابت کرنے کیلئے کافی شواہد ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کئے گئے دعوے کے مطابق جولائی 2015میں پاکستان نے مذکورہ مقدمہ میں مفاہمت کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ 67برس سے جاری مقدمہ کی یکسوئی کیلئے لارڈ ہوف مین یا لارڈ ہوپ کی موجودگی میں مفاہمت کر لی جائے لیکن ہندستان نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ذرائع کے بموجب برطانیہ میں موجود حیدرآباد کی اس دولت کے مقدمہ کا فیصلہ برطانیہ کے محکمۂ آثار قدیمہ میں محفوظ دستاویزات کے مشاہدے کے بعد ہوا جس میں حیدرآباد میں آپریشن پولو اور سلطنت آصفیہ کا تختہ الٹنے کے علاوہ محمد علی جناح کی موت کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا تذکرہ کیا گیاہے۔ انضمام حیدرآباد کے بعد حکومت ہند نے ملک کی دفاعی و معاشی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں سے امداد طلب کی تھی اس موقع پر بھی حضور نظام نے حکومت ہند کو فراخدلانہ امداد روانہ کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT