Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں نقاب پوش مسلم خواتین نسلی حملوں کا نشانہ

برطانیہ میں نقاب پوش مسلم خواتین نسلی حملوں کا نشانہ

اسلام سے خوف و منافرت کے واقعات میں 70 فیصد اضافہ
لندن ۔ /13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)  برطانیہ میں نگراں گروپ کے مطابق اسلام سے غیر ضروری خوف کے تحت کئے جانے والے حملوں میں خطرناک اضافہ کے سبب مسلم خواتین بالخصوص حجاب یا چہرہ پر نقاب پہننے والی خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے اندیشوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ برطانیہ میں ’’اسلاموفوبک حملوں‘‘ پر نظر رکھنے والے ادارہ ’’ ٹیل میژرنگ اینٹی مسلم ایٹائیکس‘‘ (ماما) کے ڈائرکٹر فیاض مغل نے ہم نے محسوس کیا ہے کہ سڑکوں اور گلیوں کی سطح پر نظر آنے والی مسلم خواتین بالخوص حجاب یا چہرہ پر نقاب اوڑھنے والی خواتین اکثر اس قسم کے حملوں کا نشانہ بنائی جاتی ہیں ‘‘ ۔ فیاض مغل نے مزید کہا کہ ’’بہت پہلے ہی محسوس کرچکے ہیں کہ چہرہ پر نقاب اوڑھنے والی خواتین مزید جارحانہ واقعات کا شکار ہوتی ہیں ‘‘ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین اکثر طنز ، گالی گلوج ، سے لیکر جسمانی تشدد کا نشانہ تک بنائی جاتی ہیں ۔ حملہ آواروں کی جانب سے مسلم خواتین کے نقاب کو بھی تار تار کردیا جاتا ہے یا پھر (نقاب کو) نذر آتش کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ۔ اس ادارہ نے کہا کہ اسلام سے غیر ضروری خوف و اندیشوں کے تحت کئے جانے والے حملوں کی 60 فیصد شکار مسلم خواتین ہی بنائی جاتی ہیں ۔ یہ حیرت انگیز انکشاف ایک ایسے وقت کہا گیا ہے جب حال ہی میں ایک ویڈیو کلپ منظر عام پر آیا جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی ایک نو عمر نقاب پوش لڑکی کو کسی اشتعال کے بغیر حملہ کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس لڑکی کو سڑک پر دن دھاڑے برسرعام مارا اور پیٹا گیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT