Tuesday , May 30 2017
Home / دنیا / برطانیہ میں وسیع نگرانکار اختیارات کو پارلیمنٹ کی منظوری

برطانیہ میں وسیع نگرانکار اختیارات کو پارلیمنٹ کی منظوری

انٹرنیٹ مصروفیات کے ایک سال کاریکارڈ حاصل کرنے کی گنجائش ، حقوق انسانی گروپس کی مذمت
لندن ۔19 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) برطانوی پارلیمنٹ نے جاریہ ہفتے پولیس اور انٹلیجنس خدمات کو وسیع نگرانکار اختیارات دینے کی تجویز کو منظوری دیدی ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی کسی بھی مغربی جمہوریت میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ تحقیقاتی اختیارات بل میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی گنجائش ہے کہ ویب سائیٹس ایک سال تک صارفین کی ہاؤزنگ تفصیلات جمع رکھیں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں سے تحقیقات میں یہ تفصیل فراہم کرتے ہوئے تعاون کریں۔ سابق امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے کنٹراکٹر ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا کہ یہ اختیارات بیشتر آمرانہ اختیارات سے بھی پرے ہے ۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا کہ برطانیہ میں مغربی جمہوریتوں کی تاریخ کے سنگین نگرانکار نظام کو منظوری دیدی گئی ہے ۔ یہ بل دراصل گزشتہ 15 برسوں میں برطانوی نگرانکار نظام میں پہلی بڑی تبدیلی ہے ۔ اسے ایوان خاص میں منظوری مل چکی ہے اور اسے اب صرف ملکہ ایلزبتھ دوم کی منظوری ملنی باقی ہے ۔ وزیراعظم تھریسا مے نے ماہ مارچ میں یہ بل متعارف کروایا تھا جبکہ وہ وزیر داخلہ تھیں۔ انھوں نے اسے دنیا کی قیادت والا بل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد آن لائن مراسلت میں تبدیلی لانا ہے ۔ اس بل کے ذریعے موجودہ متنازعہ اقدامات کو قانونی شکل دینے کے علاوہ نئے اقدامات متعارف کروانا بھی تھا ۔

 

بیشتر قائدین نے تاہم اس اقدام کی مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ای میل ، کالس ، ٹکسٹ پیامات اور ویب سرگرمی تک رسائی دراصل پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ حقوق انسانی کی تنظیم لبرٹی نے اس قانون سازی کو یورپی عدالت برائے انصاف میں چیلنج کیا ہے ۔ اس کا استدلال ہے کہ اس سے حقوق انسانی کے تقاضوں کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ امکان ہے کہ اس درخواست پر آئندہ سال فیصلہ کیا جائیگا ۔ گروپ کی پالیسی ڈائرکٹر بیلاسانکی نے کہاکہ اس تجویز کو منظوری دیا جانا برطانوی آزادی کیلئے افسوسناک ہے ۔ انھوں نے کہاکہ انسداد ددہشت گردی کوشش کے نام پر حکومت نے کامل نگرانی اختیارات حاصل کرلئے ہیں۔ انسانی تاریخ میں کسی بھی جمہوریت کا یہ انتہائی دراندازانہ نظام ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT