Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / برطانیہ میں پیغمبر ہونے کے دعویدار کا قتل

برطانیہ میں پیغمبر ہونے کے دعویدار کا قتل

قادیانی کی گستاخانہ حرکت پر ٹیکسی ڈرائیور تنویر احمد کی کارروائی
گلاسگو ۔7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں ایک قادیانی کی جانب سے حضور ؐ کی شان میں گستاخی کرنے اور خود کے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو اوبیر ٹیکسی ڈرائیور 32 سالہ تنویر احمد نے اس قادیانی کی دکان کے باہر اس کا قتل کردیا۔ گلاسگو کے دکاندار اسد شاہ (احمدی مسلم) نے ایک سے زائد مرتبہ حضور ؐ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ تنویر احمد نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 40 سالہ قادیانی کو ہلاک کیا ہے۔ اس قادیانی اسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے عیسائی دوستوں کو مبارکبادی پیش کی تھی۔ تنویر احمد کے وکیل جان ریفٹی نے میڈیا کے سامنے ان کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس کیس کی گلاسگو شرف کورٹ میں مختصر سماعت کے بعد انہیں تحویل میں لیا گیا ہے۔

تنویر احمد نے یہ کہہ کر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا کہ اسد شاہ نے اسلام اور حضور ؐ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ تنویر احمد پر گلاسگو میں اسدشاہ کی دکان کے باہر انہیں قتل کرنے کا الزام ہے۔ تنویر احمد نے اس قتل کا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ اسد شاہ نے جو گستاخی کی تھی اس کی پاداش میں میں نہیں تو اور کوئی اسے ہلاک کردیتا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ قتل مذہبی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ تنویر احمد کا کہنا ہیکہ میں تو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہوں لیکن میں حضرت عیسیٰ کی عزت و احترام کرتا ہوں۔ تنویر احمد کو بہت جلد ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اسد شاہ تقریباً 20 سال قبل پاکستان سے برطانیہ کے شہر گلاسگو منتقل ہوا تھا۔ وہ شاہ لینڈ منراڈ روڈ پر واقع اپنی دکان کے باہر شدید زخمی حالت میں پایا گیا تھا۔ بعدازاں اسے ہاسپٹل میں مردہ قرار دیا گیا۔ 40 اسد شاہ نے نومبر 2014ء میں دو ویڈیو پوسٹ کئے تھے جس میں اس نے خود کو پیغمبراسلام ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد اسے آن لائن جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی تھی۔

TOPPOPULARRECENT