Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / برطانیہ کی علحدگی مودی حکومت کے اچھے دن یا …

برطانیہ کی علحدگی مودی حکومت کے اچھے دن یا …

محمد مبشر خرم
جنہیں اپنی حکومت میں سورج کے غروب نہ ہونے پر ناز تھا وہ ناز ایک مرتبہ پھر چکنا چور ہو گیا۔ دنیا کے ہرعروج کو زوال پذیر ہونا ہے اور جب تک کوئی زوال نہیں دیکھتا اس وقت تک اسے عروج کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ برطانیہ کی یورپین یونین سے علحدگی نے ساری دنیا کی معیشت پر جو اثرات مرتب کئے ہیں ان کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ مجموعی اعتبار سے دنیا کی معیشت پر اس کے منفی اثرات کی طویل مدت تک برقراری ان ممالک کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شمار کئے جاتے ہیں۔
برطانیہ و ہندستان کے تعلقات اور ہندستان کے دور محکومی کو اب تک ہندستانی عوام فراموش نہیں کر پائیں ہیں کیونکہ وہ برطانوی مظالم سے واقف ہیں لیکن اب جو زخم یوروپین یونین سے علحدگی پر لگے ہیں ان زخموں نے یہ بات ثابت کردی کہ ہندستانی نظام تجارت اب بھی برطانوی محکومی میں گرفتار ہے۔2014عام انتخابات کے بعد خود کو تاریخ ساز ثابت کرنے کیلئے ’’آزاد ہندستان میں پیدا ہونے والے پہلے وزیراعظم‘‘ نے ہندستانی عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ’’اچھے دن آئیں گے‘‘لیکن آزاد ہندستان میں پیدا ہوئے پہلے وزیر اعظم کے اچھے دن ضرور آگئے مگر اب جو جھٹکا لگا ہے اس سے نہ صرف کارپوریٹ بلکہ عوام کے برے دن شروع ہونے جا رہے ہیں۔ محکومی کا کرب سمجھنے والے بیرونی دوروں سے زیادہ شائد خارجہ پالیسی پر توجہ دیا کرتے تھے اسی لئے انہیں ملک اور عوام کی فکر لاحق تھی۔ برطانیہ کی یورپین یونین سے علحدگی نے ہندستانی حصص بازار میں جو بونچھال پیدا کیا ہے اس پرفوری کنٹرول کیا جانا ناگزیر ہے کیونکہ ایسی صورتحال کئی ہرشد مہتا پیدا کرسکتی ہے۔ ماہرین معاشیات اس صورتحال پر دلاسہ دینے والی گفتگو پر اکتفاء کر رہے ہیں لیکن ان کا یہ دلاسہ آئندہ ایک ہفتہ میں دنیا کی بدلتی صورتحال کو واضح کردے گا۔ عالمی سطح پر پیدا شدہ ان حالات کا اثر خام تیل کی قیمت پر کس حد تک ہوگا اس کا اندازہ لگانا دشووار ہے کیونکہ خام تیل کی قیمت میں آرہی گراوٹ میں استحکام پیدا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ہندستان کو روپئے کی گھٹتی شرح سے زبر دست نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہندستان کے بڑے تجارتی گھرانے ان حالات پر گہری نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں اور اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا بازار میں آئی اس مندی کا اثر کب تک برقرار رہے گا۔ ہندستان میں 2014کے بعد پیدا شدہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے جس کی وجہ سے گنگاجمنی تہذیب خطرے میں ہے لیکن بتدریج یہ احساس شدت اختیار کرنے لگا ہے کہ نہ صرف ملک کی سیاست کی سطح میں گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے بلکہ سیاسی و اخلاقی گراوٹ کے ساتھ ساتھ ملک کا نظام حکمرانی معاشی انحطاط کا بھی شکار ہوتا جا رہا ہے اور اس کا اثر عوام کی جیب پر پرنے لگا ہے۔ مہنگائی کے منفی اثرات سے عوام ابھی سنبھل نہیں پائے تھے کہ برطانیہ کے فیصلہ ملک کی معیشت کو جھٹکہ دیا۔برطانیہ کے اس فیصلہ سے پیدا شدہ صورتحال پر ابھی سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ اثاثہ جات ملک کی معیشت کو جلد مستحکم کر سکتے ہیں ۔ آر بی آئی کا یہ کہنا کہ ملک کی معیشت کو جلد استحکام حاصل ہو جائے گا اس بات کی دلیل ہے کہ ملک کی معیشت انحطاط کا شکار ہے۔ یوروپین یونین میں ہندستان کی 55کمپنیوں کی سرمایہ کاری ہے اور اب برطانیہ کی علحدگی کے بعد ان کمپنیوں کو یوروپین یونین سے علحدہ معاہدے کرنے ہوں گے ان معاہدوں کے جو نتائج برآمد ہوں گے ان کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ یورو اور پاؤنڈ میں آئی گراوٹ سے روپیہ کو استحکام حاصل ہونے کی تسلی دی جا رہی ہے لیکن اگر ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی رفتار کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا توملک کی معیشت میں سدھار انتہائی مشکل ترین امر ہو جائے گا۔ خام تیل کی قیمت میں اگراوٹ آئے یا اضافہ ہو اگر روپئے کی قدر گھٹتی ہے تو اس کے منفی  اثرات سے ہندستانی معیشت محفوظ نہیں رہ پائے گی اور ہندستان کو خام تیل کی خریدی کیلئے عالمی بازار کے اعتبار سے رقم ادا کرنی پڑے گی۔

ہندستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنے پاس صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو دیگر ممالک میں خدمات کی انجام دہی کا موقع فراہم کرتے ہوئے بیرونی زر مبادلہ سے ہونے والی آمدنی پر اکتفاء کیا کرتا تھا اور اب تک یہ پالیسی درست بھی تصور کی جا رہی تھی کیونکہ ملک میں انفراسٹرکچر نہ ہونے کے سبب نوجوانوں کو ترقی کے مواقع میسر نہیں تھے لیکن 2014کے بعد ’’میک ان انڈیا ‘‘ کے نعرے نے نوجوانوں میں نئی امنگ پیدا کر دی تھی لیکن بیرون ملک خدمات انجام دینے والے نوجوانوں کی امیدیں اس وقت ختم ہو نے لگیں جب ہندستان کے بنے وزیراعظم خود ملکوں ملکوں گھومنے لگے۔ اسی دوران سعودی عرب کے ساتھ خلیجی ممالک کے حالات میں آئی اچانک تبدیلیوں نے ملک کے بیرونی زر مبادلہ سے ہونے والی آمدنی پر گہرا اثر ڈالا جس کے نتیجہ میں حکومت کو اپنی پالیسی پر از سر نو غور کرنا پڑا۔ سعودی عرب میں آئے معاشی انحطاط کے اثرات سے ابھی سنبھل نہیں پائے تھے کہ امریکی انتخابی سرگرمیوں نے بے چینی کی کیفیت پیدا کردی تھی لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ہند کا میک ان انڈیا خواب تہہ خاک ہو جائے گا کیونکہ برطانیہ میں 800کے قریب ہندستانی انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیاں ہیں جو ایک لاکھ 10ہزار نوجوانوںکو روزگار فراہم کرتی ہیںعلاوہ ازیں اعداد و شمار کے مطابق 9تا 18فیصد آئی ٹی صنعت میں ہندستانی سرمایہ کاری موجود ہے جو کہ حالات مستحکم نہ ہونے سے خطرے میں پڑسکتی ہے۔ اسی طرح کرنسی میں اچانک آئی گراوٹ نے شہریوں کے روزمرہ کے اخراجات پر بھی اثر ڈالا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ معیار زندگی میں تیز رفتار تبدیلیوں سے محفوظ رہنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات بھی ہندستانی معیشت کیلئے نقصاندہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ و یوروپین یونین کے تنازعہ کے دوران ’’بریکسٹ‘‘ کے اثرات نے عالمی سطح پر ڈالر کی شرح کو مستحکم کیا ہے لیکن اس کا راست فائدہ تا حال کسی کو ہوتا نظر نہیں آرہاہے کیونکہ برطانیہ سے نہ صرف ہندستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے مفادات کے مربوط ہیں اور بارہا برطانیہ نے اعلانیہ طور پر یہ بات کہی ہے۔ ہندستان کو درپیش مسائل میں اب یہ بھی ایک انتہائی اہ م مسئلہ بن چکا ہے کہ اب جو حالات آئندہ دو سال کے دوران پیدا ہوںگے ان سے کس طرح نمٹا جائے؟ حکومت ہند صرف تسلی بخش بیانات یا تیقنات کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کاآغاز کرتے ہوئے ملک میں موجود صلاحیتوںکے استعمال اور مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے تو اس وقت ہندستان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے موقف میں ہے کیونکہ ملک کی 62فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر اس طاقت کو بیرون ملک لگانے کے بجائے اندرون ملک انہیں مواقع فراہم کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جائے تو حالات بدل سکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی ہندستان کو ایک مرتبہ پھر سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بنانے کے در پہ ہے۔ بیرونی راست سرمایہ کاری میں جو رعایتیں فراہم کی جا رہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں برطانیہ ایک مرتبہ پھر ہندستان میں سرمایہ کاری کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہونے کی کوشش کرے گا اور ہندستانی معاشی پالیسی میں موجود رعایتیںانحطاط کا شکار معیشتوں کو بھی سرمایہ کاری کی گنجائش پراہم کردیں گی اور ہندستانی نوجوانوں کی صلاحیتیں بندھوا مزدور کی طرح ہوکر رہ جائیں گی۔ ملک میں مہنگائی‘ کرپشن‘ فرقہ پرستی ‘ سیاسی اقدار کا زوال انتہائی اہم مسائل بنے ہوئے ہیں لیکن اس صورتحال میں عالمی مندی حکومت کو چہرہ چھپانے کا موقع فراہم کر ستی ہے لیکن اگر حکومت آئندہ دو برسوں کے دوران ملک کے معاشی استحکام کیلئے کالے دھن کی واپسی پر توجہ مرکوز نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں ملک ایک مرتبہ پھر معاشی محکومی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یوروپین یونین نے برطانیہ کے 52فیصد عوام کے فیصلہ پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے برطانیہ کو جلد از جلد علحدگی اختیار کرنے کا مشورہ دیاہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو برسوں میں یہ عمل پائے تکمیل کو پہنچے گا۔ ہندستانی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں بڑے تجارتی گھرانوں کی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلیاں ملک کی معاشی صورتحال اور حکمت عملی کو آشکار کریں گی کیونکہ ٹاٹا موٹرس کے حصص ان کمپنیوں کے حصص میں شمار کئے جاتے تھے جن کا استحکام بتدریج ہوتا رہا ہے جبکہ حصص بازار میں ایسی کئی کمپنیاں ہیں جو راتوں رات ترقی کرتے ہوئے اپنے حصص کی قیمتوں میں اچھال پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہیں جب ٹاٹا موٹرس جیسی کمپنی کے حصص کا یہ حال ہوا تو ان کمپنیوں کی صورتحال کے متعلق فوری طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

TOPPOPULARRECENT