Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / برطانیہ کے نئے ویزا قواعد پر نظر ثانی کی اپیل

برطانیہ کے نئے ویزا قواعد پر نظر ثانی کی اپیل

سرمایہ کاری کے مواقع ، مختلف پراجیکٹس میں اشتراک، تھریسامے سے سدا رامیا کی ملاقات
بنگلورو۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا نے دورۂ کنندہ وزیراعظم برطانیہ تھریسامے سے خواہش کی ہے کہ حکومت برطانیہ کی جانب سے معلنہ نئے ویزا قواعد پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی باصلاحیت ٹیکنیکل ورکرس کی نقل و حرکت کو ترجیحی تجارت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ تھریسامے کی کمپے گوڑا انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ایک خانگی ہوٹل میں آمد کے بعد چیف منسٹر نے ان سے ملاقات کی۔ برطانوی ہوم آفس نے نئے ویزا قواعد کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 24 نومبر کے بعد ٹائر II انٹرا کمپنی ٹرانسفر (آئی سی ٹی) زمرہ کے تحت درخواست دینے والوں کے لئے 20,800 پاؤنڈس تنخواہ کی حد کو بڑھاکر 30,000 پاؤنڈس کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے وزیراعظم برطانیہ سے اپیل کی ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہائی ٹیک سیکٹرس کا انحصار موثر ایمگریشن پالیسی پر ہے لہذا باصلاحیت ورکرس کے لئے آسان پالیسی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت افراد کے برطانیہ میں داخلہ سے خاطر خواہ معاشی ترقی ہوتی ہے اور تارکین وطن پر اس کا زیادہ اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔ سدا رامیا نے بتایا کہ ان کی حکومت یوکے ہیلتھ سٹی پراجیکٹ کے جلد از جلد قیام کی خواہاں ہے۔ 400 ایکر اراضی اس پراجیکٹ کے لئے دھارواڑ میں مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حفظان صحت کے شعبوں میں بھی برطانیہ کے ساتھ شراکت سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ سدا رامیا نے فروری 2017ء میں منعقد شدنی ایرو انڈیا شو میں حکومت برطانیہ اور برطانوی صنعتوں کی سرگرم شراکت کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرو اسپیس اور ڈیفنس کے شعبوں میں باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لئے واضح منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ سدا رامیا نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں برطانوی فرمس کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ سٹیز کے قیام میں بھی انہوں نے برطانوی فرمس سے سرمایہ کاری کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے میں کرناٹک کو کافی دلچسپی ہے تاکہ انفراسٹرکچر اور دیگر شعبہ جات میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوسکے اور جنوبی اور مغربی ہندوستان کا برطانیہ سے اشتراک اور بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں موجود برطانوی کمپنیوں کی تقریباً 15% تعداد کرناٹک میں موجود ہے جہاں 23,000 افراد برسرروزگار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT