Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / برقعنی خریدنے والوں میں غیر مسلم خواتین کی اکثریت

برقعنی خریدنے والوں میں غیر مسلم خواتین کی اکثریت

فرانس میں امتناع کے بعد فروخت اور بڑھ گئی ‘ تیراکی لباس کا متبادل
نئی دہلی ۔ 29 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) سڈنی میں واقع احدیٰ زنیتی نے گذشتہ 8سال کے دوران تقریباً 700,000 سے زائد برقعنی فروخت کئے اور دلچسپ پہلو ہیکہ 45فیصد سے زائد خریدار غیر مسلم تھے ۔ احدیٰ زنیتی نے ’’سڈنی مارننگ ہیرالڈ‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ صرف اپنی پسند کا معاملہ ہے ۔ برقعنی سے پوری آزادی ‘ وضعداری اور اعتماد کا اظہار ہوتاہے ۔ یہ تکلیف ‘ اذیت یا دہشت کی علامت نہیں ۔ فرانس میں برقعنی پر متنازعہ امتناع اور عدالت کی جانب سے حکم التواء کے بعد احدنی کو اپنے کسٹمرس کے بے شمار فون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں مختلف نظریات و فکر رکھنے والوں نے امتناع کی مذمت کی ہے ۔ ایک غیر مسلم خاتون کسٹمر نے کوئنس لینڈ سے پیام دیا کہ یہ صرف ایک تیراکی کا لباس ہے ۔ امریکہ سے ایک اور خاتون نے کہا کہ اسکی جلد کینسر سے متاثر ہے اور وہ معمول کے تیراکی لباس میں سورج کی تاب نہیں لاسکتی ۔احدیٰ زنیتی نے بتایا کہ فرانس میں امتناع کا غیر متوقع اثر رہا اور ان کی جانب سے تیار کیا جانے والا برانڈ ’’Ahiida‘‘ اور بھی زیادہ مقبول ہوگیا ۔ اس کی طلب بڑھ گئی اور انہیں یورپ میں بروقت سربراہی یقینی بنانے کیلئے کوریئر کمپنیوں کو تبدیل کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی برقعنی کے بارے میں کوئی منفی مہم چلائی جائے یا اس پر تنقید کی جائے اس کی فروخت بڑھ جاتی ہے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برقعنی کی بدولت کئی خواتین کو ساحل سمندر تفریح کا موقع فراہم ہوا ‘ ورنہ صحت یا جسمانی عوارض یا پھر مذہبی وجوہات کی بناء وہ محروم رہتی تھیں ۔ غیر مسلم خواتین میں برقعنی کی مقبولیت اس بات کا اشارہ ہیکہ وہ فطری طور پر اس لباس کو جس میں شائستگی ہے پسند کرتی ہیں ۔ یہ اور بات ہیکہ یوروپ میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے اور اسلام قبول  کرنے والوں میں خواتین کی اکثریت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT