Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / برقی بقایاجات کی معافی سے 6 لاکھ صارفین کو فائدہ

برقی بقایاجات کی معافی سے 6 لاکھ صارفین کو فائدہ

ماہانہ 100 یونٹ سے کم برقی استعمال کرنے والوں کو چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ کی راحت
حیدرآباد4  ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے برقی بقایا جات کی معافی کا فائدہ تقریباً 6 لاکھ گھریلو برقی صارفین کو پہونچے گا۔ ماہانہ 100 یونٹ سے کم برقی کا استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لئے حکومت نے برقی بقایا جات کی معافی کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے کئے گئے اس اعلان کے سبب حکومت پر 128 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا لیکن اس کے فائدے 6 لاکھ صارفین کو حاصل ہوں گے۔ اطلاعات کے بموجب 100 یونٹ سے کم ماہانہ برقی استعمال کرنے والے صارفین کے بقایا جات کی معافی کے اعلان کا مقصد مجوزہ بلدی انتخابات ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے آبرسانی بقایا جات بھی معافی کا اعلان کیا ہے جس کا 3 لاکھ صارفین کو فائدہ پہونچے گا۔ محکمہ آبرسانی کے ذریعہ پینے کا پانی استعمال کرنے والے صارفین جو دو سال سے زائد عرصہ سے بقایا جات ادا نہ کئے ہیں اُن کے بقایا جات معاف کئے جائیں گے۔ حکومت نے مالی بدحالی کا شکار خاندانوں کے لئے یہ بقایا جات کی معافی کا اعلان کیا ہے۔ بلدی انتخابات کے پیش نظر حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں 5 نئی میونسپلٹی کی تشکیل پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے جل پلی، میر پیٹ، جلا ل گوڑہ، بوڈ اوپل اور پیرزادی گوڑہ کو بھی میونسپلٹی بنانے کا ذہن تیار کرلیا ہے۔ جل پلی میونسپلٹی کی تشکیل کے لئے کوتہ پیٹ پہاڑی شریف کے علاوہ بالاپور کے کچھ علاقوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ جائیداد ٹیکس کے سلسلہ میں حکومت نے متوسط اور غریب خاندانوں کو 101 روپیہ سالانہ ٹیکس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ بلدیہ کے ذرائع کے بموجب حکومت کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس میں تخفیف کے اُمور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس مکان کی سالانہ کرایہ کی قیمت 4,100 روپئے یا اُس سے کم ہو، اُس کے لئے صرف 101 روپیہ سالانہ جائیداد ٹیکس مقرر کرنے کے اُمور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس اسکیم کو قابل عمل بنائے جانے کی صورت میں شہر میں 5 لاکھ 9,187 جائیداد مالکین کو فائدہ ہوگا جنھیں موجودہ ٹیکس کی شرحوں سے راحت ملے گی اور وہ سالانہ 101 روپیہ جائیداد ٹیکس ادا کرسکیں گے۔ حکومت کے اس اقدام سے جی ایچ ایم سی کو سالانہ 90 کروڑ کا نقصان ہوگا جس کی پابجائی حکومت کی جانب سے کرنے کی بلدیہ نے خواہش کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب بلدی انتخابات سے قبل جائیداد ٹیکس میں تخفیف کے عمل کو بھی مکمل کرلینے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور عنقریب اس سلسلہ میں سرکاری طور پر اعلان کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT