Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / برقی بقایا جات کی معافی کے بعد غریبوں کا ٹی آر ایس کی جانب جھکاؤ

برقی بقایا جات کی معافی کے بعد غریبوں کا ٹی آر ایس کی جانب جھکاؤ

چیف منسٹر کے سی آر غریب خاندانوں میں مقبول ، تکلیف سے نجات ، تاریخی فیصلہ
حیدرآباد۔/8ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 6لاکھ غریب خاندانوں کے برقی اور آبرسانی کے بقایا جات کی معافی سے متعلق حکومت کے اعلان کا عوام کی جانب سے زبردست خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ برقی اور آبرسانی کے جملہ 418کروڑ روپئے کے بقایا جات کی معافی سے توقع ہے کہ زیادہ تر اقلیتی اور دلت طبقات کو فائدہ ہوگا جو دونوں بلز ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد شہر میں غریب خاندانوں کا ٹی آر ایس کی طرف جھکاؤ دیکھا جارہا ہے اور پارٹی قائدین کے دوروں کے موقع پر ان کا گرمجوشی سے استقبال اس کی علامت ہے۔ ٹی آر ایس کے ریاستی اقلیتی قائدین محمد اعظم علی خرم، محمد منیر الدین، امیر الدین، شریف الدین، مسیح الدین اور عبدالمقیت چندا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کے سی آر نے غریب خاندانوں کی تکلیف کا اندازہ کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے شہر کے دیگر قائدین نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا تھا کہ سلم علاقوں میں غریب بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ حکومت ایک طرف تمام غریبوں کو برقی اور پانی کی سہولت بہم پہنچانے کا منصوبہ رکھتی ہے تو دوسری طرف لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو برقی اور آبرسانی کے بلز کی ادائیگی کے موقف میں نہیں۔ چیف منسٹر نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہوئے6 لاکھ خاندانوں کو راحت پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 418کروڑ روپئے کی معافی کا اعلان متحدہ آندھرا پردیش میں بھی کسی حکومت نے غریبوں کیلئے نہیں کیا تھا۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ کونسل کی نشستوں کیلئے انتخابات کی تکمیل کے بعد اس سلسلہ میں نہ صرف احکامات جاری کئے جائیں گے بلکہ رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کم برقی استعمال کرنے والے خاندان اس اسکیم کے تحت شامل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں پینے کے پانی کے مسئلہ کی مستقل یکسوئی کیلئے حکومت نے گوداوری سے پائپ لائن کی اسکیم مکمل کرلی ہے جس سے شہر کے کئی علاقوں کو راحت ملی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں حیدرآباد میں پانی کی قلت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ شدید گرما کے باوجود حیدرآباد میں برقی کٹوتی کا اعلان نہیں کیا گیا یہ ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ ہے۔ حکومت نے شہر میں برقی صورتحال پر نہ صرف قابو پایا ہے بلکہ آئندہ تین برسوں میں ریاست کو برقی کے شعبہ میں خود مکتفی بنانے کا منصوبہ ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے امید ظاہر کی کہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں عوام ٹی آر ایس کی مکمل تائید کریں گے اور گریٹر پر ٹی آر ایس کا قبضہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات سے عوام کافی مطمئن ہیں اور انہوں نے گریٹر کے انتخابات میں کے سی آر کے ہاتھ مضبوط کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ گریٹر کے نتائج ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کے عین مطابق ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT