Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / برقی شرحوں میں اضافہ کے فیصلہ میں تاخیر کا امکان

برقی شرحوں میں اضافہ کے فیصلہ میں تاخیر کا امکان

گھریلو صارفین کو متاثر کیے بغیر نئی برقی شرحوں کا جائزہ لینے عہدیدار مصروف
حیدرآباد۔14فروری (سیاست نیوز) برقی شرحوں میں اضافہ کے متعلق فیصلہ میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ تلنگانہ اسٹیٹ الکٹرسٹی ریگولیٹری اتھاریٹی نے تجاویز پیش کرنے کیلئے مزید مہلت طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے الکٹرسٹی ریگولیٹری اتھاریٹی کو جو مہلت دی ہے اس مہلت کے مطابق 15فروری کو تجاویز پیش کردی جانی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا جا سکا جس کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل اور ٹی ایس این پی ڈی سی ایل کے عہدیداروں سے مشاورت کے علاوہ عوامی سماعت کا انعقاد باقی ہے۔ریاستی حکومت نے دونوں ڈسکامس کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھریلو صارفین کو متاثر کئے بغیر برقی شرحوں میں اضافہ کی تجاویز روانہ کریں ۔بتایاجاتا ہے کہ دونوں ڈسکامس کے عہدیدار اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ گھریلو صارفین کو متاثر کئے بغیر کس طرح برقی شرحوں میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ عہدیداروں کے بموجب ریاست کے دونوں ڈسکامس کو جو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان نقصانات کی پابجائی کیلئے تمام صارفین کو سربراہ کی جانے والی شرحوں میں اضافہ کیا جانا نا گزیر ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ٹرانسکو کی جانب سے برقی شرحوں میں اضافہ کی سفارش کردی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ہونے والی تاخیر کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ عوامی برہمی سے بچنے کیلئے گھریلو صارفین کو متاثر کئے بغیر شرحوں میںاضافہ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن ان حالات میں ایسی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تجویز پر عمل کرتے ہوئے برقی شرحوں میں اضافہ کیا جائے۔تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن لمیٹیڈ کی جانب سے دو ماہ قبل ہی تجاویز روانہ کردیئے جانے کی اطلاعات ہیں جنہیں حکومت نے منظورینہیں دی۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے دیئے گئے مشورے پر عمل آوری کیلئے کوئی اجلاس ای آر سی کے ذمہ داروں کے ہمراہ منعقد نہیں کیا گیا ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے برقی صارفین کو شرحوں میں اضافہ کے ذریعہ جھٹکا دینے کے عمل میں ٹال مٹول کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں برقی شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ حکومت کے خلاف شدید برہمی کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے حکومت بالواسطہ طور پر اس عمل کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ڈسکامس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک برقی شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ڈسکامس اور ٹرانسکو کو ہونے والے نقصانات کی تخفیف ممکن نہیں ہو گی۔

TOPPOPULARRECENT