Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / برقی کے معاملہ میں امتیاز نہیں :اکھلیش۔ وزیراعظم کی عجیب منطق پر طنز

برقی کے معاملہ میں امتیاز نہیں :اکھلیش۔ وزیراعظم کی عجیب منطق پر طنز

مودی کا من دہلی میں نہیں تو لکھنؤ آجائیں، چیف منسٹر یوپی کا ریمارک۔ اکھلیش نے یوپی کو قتل و غارت گری کی ریاست بنایا: امیت شاہ

جونپور (یوپی) 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر اکھلیش یادو نے وزیراعظم نریندر مودی کو آج منفرد قرار دیا کہ اُنھوں نے ہندو ۔ مسلم معاملہ کا موازنہ برقی سربراہی کے مسئلہ سے کیا ہے۔ ایس پی لیڈر نے مودی سے یہ بھی کہاکہ اگر وہ دہلی میں رہنا پسند نہیں کرتے ہیں تو اُن کے ساتھ جگہ بدل لیں۔ اُنھوں نے یہاں منعقدہ الیکشن ریالی میں کہاکہ ہمارے وزیراعظم منفرد بات کرتے ہیں۔ اُنھوں نے ہندو مسلم کے مسئلہ کو اِس الزام کے ساتھ برقی کا معاملہ بنادیا کہ ہماری حکومت رمضان کے دوران زیادہ برقی سربراہ کرتی ہے بہ نسبت دیوالی اور ہولی۔ ہم نے اعداد و شمار پیش کئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے کچھ امتیاز نہیں برتا۔ ’’پی ایم کا من کم لگ رہا ہے، یوپی میں زیادہ اگر ایسا ہے تو ہم سے کرسی ادلا بدلی کرلیں‘‘۔ وارانسی میں راہول گاندھی کے ساتھ اپنے روڈ شو کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اکھلیش نے کہاکہ وہاں پر ہجوم اور جوش و خروش دیکھنے لائق رہا اور اُنھیں اعتماد ہے کہ لوگ صرف سماج وادی پارٹی کی حمایت کریں گے۔ او آر او پی مسئلہ چھیڑتے ہوئے اکھلیش نے الزام لگایا کہ مودی اِس معاملہ میں دھوکہ دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے عوام کو وزیراعظم مودی کے تعلق سے چوکنا رہنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ سرجیکل حملہ کے نام پر ہماری آرمی کو لڑنے کے لئے چھوڑ دیا گیا، اِس کا حل ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کیا ہے۔ اِس طرح کا پی ایم ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اُنھوں نے وزیراعظم پر قرض معافی کے نام پر کسانوں کو بھی گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ جاننا چاہا کہ مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں کتنا قرض معاف کیا گیا۔ اکھلیش نے کہاکہ کسانوں کا قرض تو ہم نے معاف کیا ہے، اگر ضرورت پڑے تو ہم ایک لاکھ روپئے تک اُن کے قرضے معاف کردیں گے۔ اِس دوران یوپی کے سون بھدرا میں صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج چیف منسٹر اکھلیش پر الزام عائد کیاکہ اُنھوں نے اترپردیش کو قتل، لوٹ مار اور خواتین کے خلاف جرائم کے معاملوں میں ’’نمبر ایک ریاست‘‘ بنادیا ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ اگر اُن کی پارٹی اترپردیش میں حکومت تشکیل دیتی ہے تو تمام مسالخ بند کردیئے جائیں گے اور خون کی ندیوں کے بجائے دودھ کی گھی کی ندیاں ریاست بھر میں بہنے لگیں گی۔ امیت شاہ نے انتخابی ریالی سے خطاب میں طنزیہ کہا ’’براہ مہربانی اکھلیش کے ساتھ کوئی ناانصافی مت کیجئے، آخر کو اُنھوں نے یوپی کو ملک کی نمبر ایک ریاست بنایا ہے، یہ اور بات ہے کہ قتل، لوٹ مار، خواتین کے خلاف جرائم میں یہ پوزیشن حاصل کی گئی ہے اور پھر اُن کا کہنا ہے کہ کام بولتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کارنامہ بولتا ہے‘‘۔ امیت شاہ نے ووٹروں سے بی جے پی کی حمایت کرنے کی اپیل کے ساتھ کہاکہ اترپردیش کی ترقی ایس پی اور بی ایس پی کی لگاتار غلط حکمرانی کا شکار ہوئی ہے۔ ایک طرف افضل انصاری اور مختار انصاری دوسری طرف اعظم خاں اور عتیق احمد ہیں، یہ ایک طرف کنواں دوسری طرف کھائی کی عمدہ مثال ہے۔

TOPPOPULARRECENT