Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / برلن کے کرسمس بازار میں ٹرک ڈرائیور نے 12 افراد کو روند ڈالا

برلن کے کرسمس بازار میں ٹرک ڈرائیور نے 12 افراد کو روند ڈالا

دہشت گرد حملہ میں پاکستانی پناہ گزین ملوث، چانسلر انجیلا مرکل کی توثیق، تمام بازار کھلے اور تقاریب جاری رکھنے کا عہد

برلن 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمن دارالحکومت برلن کے ایک پرہجوم کرسمس بازار میں ایک پاکستانی نوجوان نے اپنے ٹرک سے 12 افراد کو روند ڈالا۔ اس واقعہ میں دیگر 48 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے اس واقعہ کو دہشت گردی سے مربوط قرار دیا اور کہاکہ پناہ کے ایک طالب نے اس کا ارتکاب کیا ہے۔ اس ٹرک پر پولینڈ کا نمبر پلیٹ تھا اور وہ فولادی سلاخوں سے لدا ہوا تھا جو قلب شہر کے تاریخی یادگار قیصر ولیم میموریل چرچ کے روبرو واقع روایتی کرسمس بازار میں گھسادیا گیا۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق 8 بجے شب پیش آیا جب یہ بازار گاہکوں سے بھرا ہوا تھا۔ سینکڑوں افراد کرسمس تہوار کے لئے خریدی کے ضمن میں دوکانوں پر جمع تھے۔ پولیس نے کہاکہ واقعہ کے وقت ڈرائیور کے کیبن میں دو افراد موجود تھے۔ ٹرک رکنے کے بعد اس کا پاکستانی ڈرائیور کود کر فرار ہوگیا جبکہ کیبن سے پولینڈ کے ایک شہری کی نعش برآمد ہوئی۔ جرمن میڈیا نے کہاکہ ٹرک ڈرائیور پاکستانی ہے جس کو بعدازاں پولیس نے پکڑ لیا۔ اس مشتبہ شخص کی شناخت 23 سالہ نوید بی کی حیثیت سے کی گئی ہے جو پاکستانی ہے اور اس نے فروری 2016 ء کے دوران جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کے لئے اپنا رجسٹریشن کروایا تھا۔ انجیلا مارکل نے کہاکہ حکام مانتے ہیں کہ یہ ہلاکت خیز واقعہ دراصل ایک دہشت گرد حملہ تھا جو پناہ کے طالب شخص نے کیا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس انجیلا مارکل جو اس واقعہ کے بعد کافی مایوس اور فکرمند نظر آرہی تھیں کہاکہ ’’ہم جو کچھ جانتے ہیں اس کے مطابق یہ ایک دہشت گرد حملہ تھا اور میں جانتی ہوں کہ ہم سب کے لئے یہ امر اور بھی زیادہ تلخ اور تکلیف دہ ہوگا کہ اس (جرم) کا ارتکاب ایک ایسے شخص نے کیا ہے جس نے ہم سے اپنے لئے جرمنی میں تحفظ اور پناہ مانگا تھا‘‘۔ وزارت داخلہ نے کہاکہ یہ واقعہ یقینا ایک دہشت گرد حملہ تھا  لیکن اس کے بعد ملک کا مشہور و مقبول کرسمس بازار بند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ وزیرداخلہ تھامس ڈی سزیرے نے اپنے علاقائی ہم منصوبوں سے فون پر بات چیت کرنے کے بعد کہاکہ ان سب نے اتفاق کیا ہے کہ کرسمس بازار اور دیگر تمام بڑی تقاریب بدستور جاری رہیں گی۔ انھوں نے کہاکہ حملہ آور کے محرکات خواہ کچھ بھی ہوں ہم اپنی آزاد طرز زندگی کو بہرصورت ترک نہیں کرسکتے۔

TOPPOPULARRECENT