Tuesday , September 26 2017
Home / دنیا / بروسلز میں دہشت گردی کا خطرہ برقرار،سخت چوکسی

بروسلز میں دہشت گردی کا خطرہ برقرار،سخت چوکسی

بروسلز 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت بیلجیم نے دہشت گرد حملے کے خطرات کی بناء انتہائی اعلیٰ سطح کی چوکسی مزید ایک ہفتہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیلجیم اور فرانس کے حکام اُس بیلجیم نژاد صالح عبدالسلام کی سرگرمی سے تلاش کررہے ہیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اُس نے 13  نومبر کے پیرس حملوں میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ فرانس کی پولیس مشتبہ خودکش بیلٹ کا تجزیہ کررہی ہے جو بالکل اسی طرح کا ہے جو پیرس حملہ میں استعمال کیا گیا تھا۔ حکام کو یہ بیلٹ جنوبی مضافاتی علاقہ میں  ایک کچرے دان میں دستیاب ہوا جس کے ساتھ ڈیٹونیٹر لگا ہوا نہیں تھا۔ پولیس کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ یہ بیلٹ ہوبہو اسی طرح کا ہے جو جہادی استعمال کررہے تھے۔ بیلجیم میں اسی نوعیت کے حملہ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے سکیوریٹی کی سطح بڑھادی گئی ہے اور اسے مزید ایک ہفتہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم چارلس مشل نے کل خبردار کیا تھا کہ حملہ کا خطرہ ہنوز برقرار ہے۔ بیلجیم کے حکام نے پیرس حملوں کے سلسلہ میں چوتھے ملزم کی سرگرمی سے تلاش جاری رکھی۔

اس دوران امریکہ اور فرانس نے آئی ایس کے خلاف لڑائی میں شدت پیدا کردی۔ چنانچہ فرانس نے پہلی مرتبہ نئے تعینات کئے گئے طیاروں کے حملے شروع کئے ہیں جبکہ امریکہ نے آئی ایس کے خلاف اس لڑائی میں بین الاقوامی تعاون میں اضافہ پر زور دیا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سفر کرنے والوں کو مطلع کیا ہے کہ اس وقت آئی ایس آئی ایل، القاعدہ، بوکوحرام اور دیگر دہشت گرد گروپس مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے جمعہ کو تمام ممالک کو ان دہشت گرد گروپس سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات کی اجازت دے دی۔ بروسلز میں ہر طرف فوجی جوان گشت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن سے لے کر یوروپی یونین کے اداروں تک ہر طرف فوج متعین کی گئی ہے۔ عام طور پر تاریخی گرانڈ پلیس میں جہاں گہما گہمی رہتی ہے، چند بارس اور ریسٹورنٹس کھلے تھے لیکن وہ بھی گاہکوں کے منتظر دکھائی دے رہے تھے۔ڈاؤن ٹاؤن بروسلز میں کرسمس مارکٹ میں سرگرمیاں اس وقت ماند پڑی ہوئی ہیں حالانکہ عام طور پر یہاں کافی ہجوم رہتا ہے۔ بیلجیم کے ایک ریٹائرڈ شخص مشل نے بتایا کہ اُن کے دادا یہ کہا کرتے تھے کہ پہلی جنگ عظیم میں جس وقت جرمن گھس آئے تھے ہم جنوبی یسر ندی کے راستے یہاں پہونچے، ہمیں محتاط رہنا چاہئے ورنہ ہماری زندگی ختم ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT