Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / برکس چوٹی کانفرنس

برکس چوٹی کانفرنس

مل بیٹھیں تو ممکن نہیں ہو کوئی بھلائی
ہر ایک کو جب اپنے مفادات ہوں عزیز
برکس چوٹی کانفرنس
ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کو روشن کرنے کی خاطر تجارتی فضاء کو سازگار بنانا ضروری ہے۔ چھ ممالک پر مشتمل گروپ ’’برکس‘‘ جس میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی آفریقہ شامل ہیں، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ چیلنجس کا سامنا کرنے کے لئے ہی قائم کیا گیا ہے۔ ان ملکوں کی اقتصادی صورتِ حال کو مضبوط بنانے کے ’’برکس بینک‘‘ دی نیو ڈیولپمنٹ بینک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس بینک کے ذریعہ برکس رکن ممالک کے مالیاتی تقاضوں کو پورا کرنے کی ضرورت بھی ظاہر کی گئی تھی۔ گوا میں برکس چوٹی کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے ہندوستان نے رکن ممالک خاص کر روس اور چین سے جو توقعات وابستہ کی ہیں، ان میں پاکستان کے بارے میں چین اور روس کا موقف ہندوستان کے مرضی کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستان کو اپنے پڑوسی ملک پاکستان سے جن مسائل پر شکایت ہے، اس کو دور کرنے میں چین یا روس کوئی خاص رول ادا نہیں کرسکیں گے۔ چین کو پاکستان پر زور دینے کی ترغیب دینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے برکس چوٹی کانفرنس میں پاکستان کو یکا و تنہا کرنے ہندوستان کی سفارتی کوششوں کی جانب توجہ دلائی ہے۔ اگرچہ انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر اس ملک کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا قرار دیا۔ پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے مودی حکومت نے برعکس چوٹی کانفرنس میں سارک کے دیگر رکن ممالک کو جیسے بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا کو مدعو کیا۔ اس کوشش کا مقصد پاکستان کو علاقائی سطح پر بھی الگ تھلگ کردینا تھا۔ مودی حکومت کی اس ہمہ رخی سفارتی کوششوں سے سارک کا وجود متزلزل ہوگیا۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا نے صرف دہشت گردی کی وجہ سے اسلام آباد میں چوٹی کانفرنس کو ملتوی کرنے کی خواہش کی تھی لیکن افغانستان اور نیپال نے چوٹی کانفرنس کے التواء پر افسوس ظاہر کرکے جلد از جلد نئی تواریخ طئے کرنے پر زور دیا تھا۔ سارک کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرکے مودی حکومت نے برکس چوٹی کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ پاکستان کے خلاف برکس کے چار رکن ممالک کے منجملہ دو یعنی روس اور چین کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات محدود کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں تمام ملکوں کو محاذ آراء کرنے کے لئے بھی جو معیارات مدون کئے گئے ہیں، اس میں بھی مودی حکومت کو کامیابی نہیں مل سکے گی کیونکہ روس اور چین کو پاکستان کی قربت عزیز ہے۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی لیڈر بننے کا متمنی چین اس وقت پاکستان سے دُوری اختیار نہیں کرے گا۔ اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی راہ پر ہندوستان کو لے چلنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ اسی لئے یہ کہا جارہا ہے کہ مودی حکومت کی ڈپلومیسی ایک کشادہ راہ بنانے میں ناکام ہورہی ہے۔ ہند ۔ پاک کشیدگی کو کم کرنے میں برکس کے یہ دو رکن ممالک روس اور چین کسی بھی طرح ہندوستان کی مدد نہیں کرسکتے۔ پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہندوستان کی جو دیرینہ پالیسی اور ڈپلومیسی رہی ہے، اس کو بی جے پی حکومت نے جس طریقہ سے مسخ کرنا شروع کیا ہے، اسے فوری روک دینا چاہئے۔ بلاشبہ برکس کا قیام اقتصادی موقف کو مضبوط بنانے میں اہم معاون ثابت ہورہا ہے، خاص کر مغربی طاقتوں کے غلبہ والی اس دنیا میں برکس نے اپنا مالیاتی اور سیاسی موقف مضبوط ہونے کو واضح کردیا ہے۔ اب برکس کو اپنے رکن ممالک کی معاشی پریشانیوں کو دور کرنے میں چیلنجس کا سامنا ہوگا، لیکن ان چیلنجس کے ساتھ ان رکن ممالک میں معاشی سطح پر کئی مواقع موجود ہیں۔ 1.5 بلین نفوس پر مشتمل آبادی والے گروپ کا جی ڈی پی 2.5 ٹریلین ہے تو یہ ممالک اپنی پیداوار، ترقی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں موثر حصہ داری ادا کرسکتے ہیں۔ گوا برکس چوٹی کانفرنس میں دہشت گردی، ماحولیات کی تبدیلی، قدرتی اور انسانی عمل سے ہونے والی تباہ کاریوں اور سکیورٹی خطرات پر غوروخوض تو کیا گیا ہے، مگر آنے والے دنوں میں مذکورہ موضوعات سے نمٹنے میں مشترکہ طور پر کون کتنی کوشش کرے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT