Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / برہمن، بابا، بوال۔ ہندوستان کیلئے خطرناک

برہمن، بابا، بوال۔ ہندوستان کیلئے خطرناک

ہندوستان سادھو سنتوں اور صوفیوں کا ملک ہے۔ اس ملک کے دامن میں ہمیشہ انسانیت کو اہمیت دی گئی ہے لیکن موجودہ حالات اس قدر سنگین ہوگئے ہیں کہ جانوروں کے لئے انسانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔ خواتین کو بے آبرو کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ انسان اپنی اَنا کی تسکین اور ناپاک مفادات کی تکمیل کے لئے کررہا ہے۔ جب تک انسان حقیقت میں انسان نہیں بن جاتا تب تک تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آج ملک کو ترقی کی نہیں بلکہ عوام کے درمیان پیار و محبت، باہمی اعتماد اور بھروسہ کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک میں مانووادی (انسانیت) کا پرچار کرنے والے جناردھن جی نے کیا اگرچہ ان کا پورا نام جناردھن ماکن پاٹل ہے اور ناسک مہاراشٹرا سے وہ تعلق رکھتے ہیں لیکن سارے ملک میں انسانیت، امن و امان اور بھائی چارگی کا فروغ اپنی زندگی کا مقصد بنالیا ہے۔ اُنھوں نے دفتر سیاست پہنچ کر بطور خاص ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیاست سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 12 ویں صدی کا فلسفہ مانووادی درشن کے تحت وہ ملک میں انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان میں امن و امان کے لئے سادھو سنتوں اور صوفیاء کرام ، اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں نے ہمیشہ انسانیت کو جوڑنے کی باتیں کی ہیں توڑنے کی نہیں اور انسانیت کو جو توڑتے ہیں وہ دراصل اپنے مفادات کے غلام ہوتے ہیں۔ ان کے اذہان تعصب و جانبداری اور خود غرضی کے زہر سے آلودہ ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں جناردھن ماکن پاٹل نے بتایا کہ انھوں نے اپنے ہم خیال شخصیتوں سے مل کر وشوا بندھوتوا سمیتی قائم کی ہے جو عالمی اُخوت یا UNIVERSAL BROTHERHOOD کو فروغ دے گی۔ یہ سمیتی باضابطہ 18 جون سے کام کرنا شروع کردے گی اور اسی دن حیدرآباد میں بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوگی۔ سابق کارگذار صدرجمہوریہ بی ڈی جٹی کے فرزند اروند جٹی اس کانفرنس میں بطور خاص شرکت کررہے ہیں۔ شری جناردھن جی کے مطابق وہ انسانیت، ملک اور جمہوریت کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے ملک میں ترقی تو ہورہی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھی وزراء وکاس (ترقی) کے دعوے کررہے ہیں لیکن انسانی و اخلاقی اقدار پامال ہورہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسانوں میں احساس مر گیا ہے اور ان کا ضمیر کہیں کھو گیا ہے۔ جہاں تک ملک کا سوال ہے ہمارے ملک میں امن و امان ہوا کرتا تھا۔ انسانیت کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن انسانیت والی اس تہذیب کی تصویر دھندلی ہوگئی ہے۔ شری جناردھن جی جمہوریت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت میں آج مذہب ذات پات رنگ و نسل اور علاقہ و زبان کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ بڑا افسوسناک ہے۔ ملک کی آزادی کے ساتھ ہی انسانیت کی پامالی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اب تو حال بہت بُرا ہے۔ حیدرآباد کو انسانیت کی نگری قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں آپ کو بہ یک وقت سارے ہندوستان کے لوگ ملیں گے۔ ان کی تہذیب نظر آئے گی۔ گنگا جمنی تہذیب کے لئے یہ ایک مثالی شہر ہے اور یہاں کی سب سے بڑی خوبی اس شہر کے لوگوں میں پائی جانے والی محبت و مروت ہمدردی اور انسانیت ہے۔ شری جناردھن جی کے مطابق ہمارے ملک میں مٹھی بھر برہمنوں نے وبال مچا رکھا ہے وہ 90 تا 95 فیصد آبادی کا استحصال کرتے ہیں۔ برہمنوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے دوسروں کو بلی کا بکرا بنایا ہے۔ ملک میں گاؤ رکھشا کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی برہمن واد کی سازش ہے۔ اگر انھیں گائے سے اتنا ہی پیار ہے تو وہ گائیوں کو مرنے کے لئے سڑکوں پر کیوں چھوڑتے ہیں۔ اپنے گھروں میں اس کی افزائش کیوں نہیں کرتے؟ جانور کے لئے انسانوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ ویسے بھی انسان کی عمر اور جانور کی عمر میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جانور کے نام انسانوں کا قتل کرنے والے گاؤ رکھشک انسان نہیں ہوسکتے بلکہ یہ درندہ ہیں جو بے قصور انسانوں کا قتل کررہے ہیں۔ ہندوستان کو ایسے عناصر سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے جو عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کررہے ہیں۔ ذات پات کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کررہے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے۔ جناردھن جی کے مطابق آج اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑا جارہا ہے جبکہ ایک فرد یا چند افراد کی حرکات کے لئے مذہب کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاتا۔ تمام مذاہب نیکی اور اچھائی کی تعلیم دیتے ہیں۔ راقم الحروف کے ایک سوال پر شری جناردھن جی نے کہاکہ میڈیا بھی لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کررہا ہے۔ عوام کو ایسے میڈیا سے بھی چوکس رہنا ہوگا۔ مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دینے والوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک سب کا ہے ملک کی آزادی میں ہزاروں علماء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس ملک پر صرف اس کا حق ہے۔ آزادی تمام ہندوستانیوں کے اتحاد و اتفاق سے حاصل ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاستدانوں اور ڈھونڈگی باباؤں و سادھوؤں کے باعث لوگوں میں اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ لوگوں نے مذہب کے نام پر دھندے بنالئے ہیں۔ اس کے لئے عوام بھی ذمہ دار ہیں جو ان ڈھونگیوں کا بہ آسانی شکار بن جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں پرزور انداز میں کہاکہ آج ہندوستانیوں کو برہمن ، بابا اور بوال (فساد) سے بچنا چاہئے۔ ملک میں جو کچھ بھی جھگڑے فسادات ہورہے ہیں اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں برہمن ضرور نظر آئیں گے۔ برہمن جھگڑے کی جڑ ہیں۔ ان لوگوں نے ہی ہندو راشٹرا کا نعرہ لگایا۔ رام مندر کا مسئلہ اٹھایا اور غریبوں کو بلی کا بکرا بنایا۔ برہمن خود کو اعلیٰ اور دوسرے تمام لوگوں کو ادنیٰ تصور کرتا ہے جبکہ اس کی یہی سوچ سب سے ادنیٰ ہوتی ہے۔ عوام کو برہمنوں کی چالبازی سے محفوظ رہنا چاہئے۔ انھوں نے گاؤ رکھشکوں اور ان کے حامیوں سے دریافت کیاکہ اگر آپ اپنے گھروں میں کتے پال سکتے ہیں تو گائے کیوں نہیں پال سکتے۔ گائیوں کو گھروں میں رکھ کر ان کی افزائش کیوں نہیں کرتے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT