Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / برہم کسانوں کو منانے چیف منسٹر چوہان کی غیرمعینہ بھوک ہڑتال شروع

برہم کسانوں کو منانے چیف منسٹر چوہان کی غیرمعینہ بھوک ہڑتال شروع

BHOPAL, JUNE 10 (UNI)- Madhya Pradesh Chief Minister Shivraj Singh Chouhan, sitting on indefinite fast for return of peace and normalacy in the state burning in the farmers' movement, in bhopal on Saturday. UNI PHOTO-66U

زرعی پیداوار کو نفع بخش قیمتوں پر خریدنے کا وعدہ ۔ بحالی امن کے نام پر چیف منسٹر کی ’نوٹنکی‘ سے کام نہیں چلے گا : اپوزیشن

بھوپال ، 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش میں کسانوں کی طرف سے پُرتشدد احتجاج دسویں روز میں داخل ہونے پر چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے آج بحالی امن کیلئے یہاں دسہرہ میدان میں اپنی غیرمعینہ بھوک ہڑتال شروع کردی اور کسانوں سے اُن کی پیداوار کیلئے نفع بخش قیمتوں کا وعدہ کیا۔ انھوں نے یہاں کاشتکاروں کے بشمول اجتماع سے خطاب میں کہا: ’’مجھے فصل کی زبردست پیداوار کا علم ہے جس نے ریاست میں قیمتوں کو گھٹا دیا ہے۔ میں آپ کے (کسانوں کے) مسائل سمجھتا ہوں۔‘‘ انھوں نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت پوری طرح کسانوں کے ساتھ ہے۔ ہم زرعی پیداوار خریدیں گے اور اس کیلئے نفع بخش قیمتیں دیں گے۔ کسانوں کا اور چیزوں کے بشمول مطالبہ ہے کہ اُن کی زرعی پیداور کیلئے اطمینان بخش قیمتیں دی جائیں۔ اُن کی ہڑتال تشدد کا رنگ اختیار کرگئی جب منگل کو ضلع مندسور میں کی گئی پولیس فائرنگ میں پانچ افراد کی موت ہوگئی، جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم پہلے ہی پیاز کی بھاری مقدار 8 روپئے فی کیلوگرام کی اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خرید چکے ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ آپ کی محنت ضائع نہیں ہوگی۔ ہم مختلف اقسام کی دالیں ایم ایس پی پر خریدیں گے۔ چوہان نے کہا کہ ان کی حکومت موافق کسان ہے اور وہ کوششیں یاد دلائیں جو ایم پی میں کاشتکاری کو نفع بخش بزنس بنانے کیلئے جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آبپاشی کی سہولت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور وافر پانی کے سبب کسانوں کو بھرپور فصلیں کھڑی کرنے میں مدد ملی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سراہا کہ زراعت کو نفع بخش سرگرمی بنانے کیلئے سخت کوشش کی ہے۔ چوہان نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو گزشتہ سال جب ان کی سویابین فصل تباہ ہوگئی تھی تو راحت کاری رقم کے طور پر 4,800 کروڑ روپئے دیئے تھے۔ اسی طرح 4,400 کروڑ روپئے گزشتہ سال فصل بیمہ معاوضہ کی رقم کے طور پر گئے۔ قبل ازیں کرتا ، پائجامہ اور نہرو جیکٹ پہنے چیف منسٹر نے صبح تقریباً 11 بجے اپنی غیرمعینہ بھوک ہڑتال بی ایچ ای ایل دسہرہ میدان میں بنائے گئے

’پنڈال‘ میں شروع کی جبکہ سابق چیف منسٹر کیلاش جوشی نے ان کے ماتھے پر ’تلک‘ لگایا۔ چیف منسٹر چوہان کے پہلو میں اُن کی اہلیہ سادھنا بیٹھی رہیں۔ جب سی ایم اس مقام پر پہنچے تو ان کے حامیوں نے نعرے لگائے کہ ’’کسان کا سمان ہے، شیوراج سنگھ چوہان ہے، جئے جوان جئے کسان، بھارت ماتا کی جئے‘‘۔ اپوزّیشن کانگریس نے چوہان کی بھوک ہڑتال کو ’’نوٹنکی‘‘ قرار دیا۔ پردیش کانگریس کے ترجمان اعلیٰ کے کے مشرا نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ چوہان عوام کو بتائیں کہ آیا اُن کی نام نہاد بھوک ہڑتال ’’نوٹنکی‘‘ ہے یا اپنی وہ غلطیوں پر ندامت کا عمل جس نے ریاست کو جلا کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ وہ ایسا پیام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ’’گاندھی گری‘‘ کی راہ پر چل رہے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے نہ تو ’باپو‘ کے مجسمہ کے سائے میں بیٹھا ہے اور نا ہی اپنی ’نوٹنکی‘ شروع کرنے سے قبل گاندھی جی کے مجسمہ پر پھول مالا ڈالی۔ ’’بہرحال انھوں نے کس کے خلاف اپنی بھوک ہڑتال دسہرہ میدان میں شروع کی؟ انھیں یاد رکھنا چاہئے کہ راون کو ہر سال دسہرہ میدان میں جلایا جاتا ہے۔ اُن کی نوٹنکی بازی سے کام چلنے والا نہیں کیونکہ انھوں نے اس طرح کا ڈرامہ ماضی میں یو پی اے۔2 حکومت کے خلاف بھی کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT