Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / بشارالاسد کو پھنسانے کیمیائی حملے کی الزام تراشی

بشارالاسد کو پھنسانے کیمیائی حملے کی الزام تراشی

پوٹن کا ٹی وی پریس کانفرنس ، وزرائے خارجہ شام اور ایران سے لاؤروف کی ملاقاتوں کا اعلان
ماسکو۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر روس ولادیمیر پوٹن نے انتباہ دیا کہ اگر آئندہ کیمیائی ہتھیاروں کی اشتعال انگیزی کے ذریعہ صدر شام بشارالاسد کو پھنسانے کی کوشش کی گئی تو روس بین الاقوامی برادری سے ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات کرنے کی خواہش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایسی اشتعال انگیزیاں شام کے دیگر علاقوں بشمول دمشق کے جنوبی علاقہ میں بھی کی گئی ہیں اور اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے شام کے سرکاری عہدیداروں پر اس کا استحصال کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس، تنظیم برائے انسداد کیمیائی ہتھیار سے اپیل کرنے کیلئے تیار ہے اور بین الاقوامی برادری سے بھی ایسے تمام واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔ پوٹن نے پرزور انداز میں کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مشتبہ حملے سے باغیوں کے زیرقبضہ علاقہ خان یونس میں گزشتہ ہفتہ کئی افراد مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے تھے۔ قبل ازیں 2003ء میں عراق میں امریکہ زیرقیادت فوجی کارروائی کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا گیا تھا کہ اجتماعی تباہی کے ہتھیار عراق میں موجود ہیں، لیکن اس کے نتیجہ میں عراق تباہ ہوگیا۔ دہشت گردی کے خطرہ میں اضافہ ہوا اور دولت اسلامیہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کم و بیش اس کی ذمہ دار تھی۔ روس کی وزارت دفاع نے بھی کہا ہے کہ اس کو اطلاع ملی ہے کہ باغی جنگجو زہریلی مادے ان علاقوں میں شام کے قصبہ خان شیخون اور مشرقی غوتہ اور دیگر علاقوں میں منتقل کررہے ہیں جس کا مقصد شام کی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ایک بار پھر الزام عائد کرنا اور امریکہ کو ایک اور فوجی کارروائی کیلئے اشتعال دلانا ہے۔ تازہ ترین دعوے اس وقت منظر عام پر آئے ہیں، جب وزیر خارجہ امریکہ ریکس ٹلرسن ماسکو پہنچ گئے ہیں تاکہ روسی صدارت کے بشارالاسد کی تائید کا سامنا کرسکیں۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے کسی اعلیٰ سطحی سفارت کار کا اولین دورۂ روس ہے۔ پوٹن نے کہا کہ روس اور شام کو ’’مشترکہ دشمن‘‘ قرار دیا جارہا ہے تاکہ امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک متحد ہوسکیں۔ کئی قائدین ، انتخابات سے پہلے ٹرمپ پر تنقید کرچکے ہیں۔ روس نے اپنے دیرینہ حلیف بشارالاسد پر کیمیائی حملے کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شامی جیٹ طیاروں نے باغیوں کے اسلحہ کے ایک ڈپو کو حملوں کا نشانہ بنایا تھا جہاں بموں کے اندر زہریلی مادے بھرے گئے تھے۔پوٹن نے کہا کہ ہم اس کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ اس مثبت رجحان پیدا ہو۔ ٹلرسن کے دورہ کے بعد روس نے اعلان کیا کہ لاؤروف، شام اور ایران کے وزرائے خارجہ سے جاریہ ہفتہ کے اواخر میں ملاقات کریں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT