Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بشیر باغ پولیس فائرنگ کے شہیدوں کو خراج

بشیر باغ پولیس فائرنگ کے شہیدوں کو خراج

یادگار پر گلہائے خراج عقیدت ، کئی سیاسی قائدین کی شرکت اور خطاب
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( این ایس ایس ) : بشیر باغ پولیس فائرنگ کی 15 ویں برسی کے موقع پر آج آندھرا پردیش اور تلنگانہ دونوں ریاستوں کے کئی سیاسی قائدین نے سال 2000 میں متحدہ آندھرا پردیش میں تلگو دیشم حکومت کے دوران برقی شرحوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان قائدین نے بشیر باغ پر یادگار مقام پر گلہائے خراج عقیدت پیش کیا ۔ تلنگانہ کے سی ایل پی قائد کے جانا ریڈی ، سی پی ایم قائد بی وی راگھولو ، سی پی آئی قائد ڈاکٹر کے نارائنا ، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ، اے پی سی سی صدر این رگھویرا ریڈی اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے ۔ انہوں نے پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی منائی ۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے سیاسی قائدین نے اس وقت کے آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے آمرانہ رویہ کی مذمت کی ۔ کانگریس قائد جانا ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی نے جو 2004 میں برسر اقتدار آئی تھی ۔ پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے احترام کے طور پر مفت برقی پر عمل درآمد کیا تھا ۔ پی سی سی کے سابق صدر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ گذشتہ سال برقی کی مانگ روزانہ 182 ملین یونٹس تک پہنچ گئی تھی ۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد گذشتہ پندرہ ماہ میں زرعی شعبہ کو پوری طرح نظر انداز کردیا گیا ۔ حکومت نے نہ ہی برقی پیداوار کو یقینی بنایا اور نہ ہی دوسروں سے برقی خریدی کے معاہدے کیے ۔ پنالہ لکشمیا نے کہا کہ برقی شعبہ کے لیے ایک وہائٹ پیپر جاری کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہیں ہوگا سال 2000میں برقی شرحوں میں اضافہ سے دستبرداری کے لیے اس وقت کی تلگو دیشم حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کرنے والے احتجاجیوں پر پولیس فائرنگ میں تین احتجاجی ہلاک ہوگئے تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT