Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / بصارت سے محروم حوا کی بیٹیوں کے دلخراش چہرے

بصارت سے محروم حوا کی بیٹیوں کے دلخراش چہرے

کشمیر میں سکیورٹی فورسس کی اندھا دھند فائرنگ نے سینکڑوں لوگوں کو اندھا بنادیا

سرینگر۔25جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پرتشدد جھڑپوں اور لاقانونیت کے دوران نہ صرف انسانی جانیں تلف ہوئی ہیں بلکہ سکیوریٹی فورسس کی فائرنگ میں سینکڑوں افراد معذور اور مفلوج ہوکر زندہ نعش میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اور بیشتر افراد پلیٹ گن سے فائرنگ کے باعث نابینا ہوگئے ہیں۔جن کا مختلف ہاسپٹلوں میں علاج کیا جارہا ہے۔ بینائی سے محروم ہونے والوں میں جنوبی کشمیر میں شوپیاں کی ایک لڑکی انشالون بھی شامل ہے۔ 9 ویں جماعت میں زیر تعلیم یہ طالبہ اپنے مکان کی پہلی منزل پر ایک کمرہ میں مطالعہ کررہی تھی سکیورٹی فورسس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے پلیٹس کی فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر یہ لڑکی درد سے چیخ اٹھی۔ جب ان کی والدہ افروز نے آکر دیکھا تو لڑکی کا چہرہ اور آنکھیں لہولہان ہوگئے تھے جنہیں فی الفور ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ شری مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس لڑکی کی بینائی بحال ہونا ممکن نہیں ہے۔ انشاء لون جو کہ ڈاکٹر بننے کا خواب سجایا تھا یہ خواب چکناچور ہوگیا ہے۔ فی الحال وہ ہاسپٹل کے انسنٹیو کیر یونٹ میں زیر علاج ہے۔ پلیٹ سے متاثر لڑکی کی تصویر میڈیا میں شائع ہونے پر ریاست بھر میں غم و غصہ کا اظہار اور پلیٹ گنس پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ لڑکی کی دو آنکھیں متاثر ہوگئی ہیں اور جبکہ چہرہ، کھوپڑی، پیشانی اور ناک پر گہرے زخم آگئے ہیں۔ ایک اور معصوم لڑکی متعلم چوتھی جماعت کی آنکھ میں چھرے لگنے سے بینائی سے محروم ہوگئی ہے۔ ہاسپٹل میں زیر علاج یہ لڑکی صدمہ سے دوچار ہے اور کسی بھی ملاقاتی سے بات چیت کرنے گریز کررہی ہے۔ واضح رہے کہ سکیوریٹی فورسس نے فائرنگ میں احتجاجیوں کو ہلاک کرنے کی بجائے ایک جدید ہتھیار کا استعمال کیا ہے۔ جس کے ذریعہ گولیاں (بلٹ) نہیں بلکہ پلیٹ (چھرے) داغے جاتے ہیں۔ جس کی زد میں آنے والے بظاہر زندہ رہتے ہیں لیکن زندہ نعش کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT