Friday , April 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / بعثت مبارکہ کے مقاصد جلیلہ اورامت مسلمہ کی ذمہ داری

بعثت مبارکہ کے مقاصد جلیلہ اورامت مسلمہ کی ذمہ داری

حضرت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکی بعثت مبارکہ کے چار مقاصدجلیلہ بیا ن فرمائے گئے ہیں،۱؍ تلاوت آیات،۲؍تعلیم کتاب ۳؍تعلیم حکمت،۴؍تزکیہ وتصفیہ قلب۔(البقرۃ:۱۳۲؍آل عمران:۱۵۹؍الجمعۃ:۲) کتاب وحکمت کی تعلیم میں خودتلاوت کا مفہوم موجودہے چونکہ تلاوت کے بغیرتعلیم ممکن نہیں،اسکے باوجودتلاوت آیات کو الگ سے ذکرکرنے سے مقصوداسکی اہمیت کو جتانا ہے اوریہ بتانا ہے کہ تلاوت آیات بھی بذات خود ایک مستقل عبادت ہے،سمجھ کرتلاوت کی جائے تب بھی عبادت اورنہ سمجھ کرکی جائے تب بھی عبادت ہے، اوراللہ سبحانہ سے قرب کا مقدس وسیلہ وذریعہ ہے چونکہ تلاوت الفاظ کی ہوتی ہے اسلئے الفاظ بذات خود مستقل مقصود ہیںاس لئے الفاظ کی حفاظت بھی فرض ہے ، قرآن مجیداللہ سبحانہ کا کلام ہے ،مخلوقات کے کلام جیسا نہیں ،اسلئے حدیث پاک میں ارشادہے’’اللہ سبحانہ کے کلام کو سارے کلاموں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی حق سبحانہ کو ساری مخلوقات پر‘‘مخلوق کے کلام میں الفاظ سے زیادہ معانی مقصود ہوتے ہیں الفاظ کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی،الفاظ اگرکچھ آگے پیچھے ہوجائیں یا ان میں کوئی تغیروتبدل واقع ہوجائے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا،جبکہ قرآن مجیدکے الفاظ بھی بذات خود مطلوب ہیں اوراسکے معانی ومفاہیم بھی۔اگرکوئی قرآن پاک کے بعینہ الفاظ کے بجائے اسکے مفہوم کو اپنے الفاظ کا جامہ پہنا دے تواسکو قرآن کا متن نہیں کہا جائے گاگوکہ اس سے بڑی حد تک مفہوم اداہورہاہو،اگرکوئی اس کو پڑھے تواسکو قرآن پاک کی تلاوت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا ،اورنماز میں انکوپڑھے گاتواسکی نماز نہیں ہوگی ،

اللہ سبحانہ کاکلام ہونے کی وجہ قرآن کے الفاظ کی بہت بڑی اہمیت ہے اسلئے اللہ سبحانہ نے آپ ﷺ کے منصب جلیلہ میں تلاوت آیات کا مستقل ذکرفرما یا ہے۔اسکا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ الفاظ قرآن کے پڑھنے یا یا دکرلینے پر اکتفاء کرلیا جائے اوراس کے معانی سے بے اعتنائی برتی جائے ۔ قرآن پاک آخری آسمانی کتاب ہے اس صحیفہ ہدایت کے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اسکی تلاوت کے ساتھ اسکوسمجھاجائے اوراسکی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔آیات قرآن کے سمجھنے کیلئے حکمت یعنی سنت کا جاننا اورقرآنی آیات کے فہم کیلئے سنت سے روشنی حاصل کرنا ضروری ہے،اسلئے اللہ سبحانہ نے تعلیم کتاب کے ساتھ حکمت کا ذکرفرمایا۔تعلیم کتاب وحکمت میں جہاں قرآنی آیات کے معنی ومفہوم سمجھا دینا ہے وہیں حکیمانہ انداز سے ان کے قلب وقالب کو اس سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔حکمت سے مراد آیات قرآنی کی ایسی وضاحت وتشریح کہ جس کے جاننے کے بعدقرآنی آیات پر عمل آسان ہوسکے ،ایسی وضاحت وتشریح کو حکمت سے تعبیرکیا گیاہے ۔ارشاد باری ہے’’اورہم نے یہ ذکرآپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے کھول کھول کربیان کریں جوآپ پرنازل کیا ہے ‘‘۔(النحل؍۴۴)آیات قرآنیہ کے معانی ومطالب کا بیان اوراسکے اجمال کے تفصیل نیزاوامرونواہی کی وضاحت آپ ﷺ کے ارشادات پا ک کی روشنی کے بغیرممکن نہیں ،یہ منصب اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ ﷺ ہی کو عطافرما یا ہے،کوئی اورانسان اپنی عقل وفہم یا اپنی زبان دانی پر اعتمادکرکے کوئی تعبیر بیان کرتاہو تووہ ناقابل اعتبارہے اورایسا فرد سخت دھوکہ میں مبتلا ہے ،کیونکہ قرآن پاک کے مقصود تک رسائی کے لئے صرف عربی زبان کی مہارت کافی نہیں ۔تزکیہ میں ظاہری طہارت وپاکیزگی کے ساتھ باطنی طہارت وپاکیزگی بھی شامل ہے ،تزکیہ سے ایمانیات اورتقاضاء ایمانیات مرادہیں،یعنی کتاب وسنت کے مطابق عقائداختیارکئے جائیں ،باطل عقائدسے کنارہ کشی اختیارکی جائے ،اوراپنے اعمال واخلاق درست کئے جائیں۔باطل عقائد میں کفروشرک اوروہ مشتبہ اعمال وافکارجوکفروشرک تک پہونچا تے ہیںوہ سب شامل ہیں،کفروشرک اورمفضی الی الشرک والکفر یعنی کفروشرک تک پہنچانے والے اعمال کے ارتکاب سے سخت اجتنا ب کے ساتھ بعض دیگرباطنی امراض جیسے بغض وکینہ ، نفرت وعداوت، غروروتکبر،بے رحمی وسخت دلی ،خود کی بڑائی کا احساس ،دوسروں کی تحقیرکا جذبہ،حسدوجلن،حب جاہ ومنصب اورحب دنیا ومتاع دنیا سے اپنے دامن دل کو پاک کرنا تزکیہ کہلاتاہے۔

الغرض آپ ﷺ نے اپنا سب کچھ قربان فرماکر بعثت مبارکہ کے عالی مقاصد جلیلہ کی تکمیل فرمائی۔ نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک وپاکیزہ زبان سے اللہ سبحانہ کی آیات تلاوت فرمائیں توجنکے دل کی زمین نرم تھی انکے دلوں میں قرآن کی آیات اترتی چلی گئیں اورانکے عملی نورانی جلوہ انکی زندگی میں جھلکنے لگے،پھرآپ ﷺ نے تلاوت آیات ہی پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ کتاب اللہ کی آیات کی انہیں تعلیم بھی دی اورآیات کے اندرپوشیدہ اسرارومعارف بھی ان پر کھولے،اس طرح کفروشرک کی آلائشوں سے انسانی سینو ں کو پاک کیا۔آپ ﷺکی اس مبارک جدوجہدکی برکت سے انسانی معاشرہ گمراہیوں کی تاریکیوں سے نکل کرہدایت کے نورمیں آگیا۔انسانی صفات سے محروم انسان پھرسے حقیقی معنی میں نہ صرف انسان بنے بلکہ دیگرانسانوں کو انسانیت کا درس دیکرایک اچھا انسان اور سچا پکا مسلمان بنا یا،اسکی وجہ روئے زمین پر ایک ایسا عظیم روحانی انقلاب رونما ہوا جس سے درندہ صفت انسانی معاشرہ انسانیت نوازاعلی اخلاقی جواہرسے مرصع ہوگیا۔آپ ﷺ کو اللہ سبحانہ نے رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمایااسی لئے آپ ﷺ کا دامن دل اس قدرکشادہ تھا کہ دوست تو دوست دشمن کیلئے بھی اسمیں جگہ تھی،آپ ﷺ کا ابررحمت یوں برستا کہ اسمیں دوست دشمن کی کوئی تخصیص نہ رہتی،اورآپ ﷺ کا خوان کرم اس قدروسیع تھا کہ ہرکوئی اس سے بآسانی فیضیاب ہوتا ۔ ام کی نسبت چونکہ مکۃ المکرمہ کی طرف کی جاتی ہے اوراسکو’’ ام القری ‘‘بھی کہا جاتاہے اسلئے امیین کی طرف آپ ﷺ کے مبعوث کئے جانے کے ذکرکا بہانا بناکربعض اہل کتاب نے آپ ﷺ کی نبوت کو صرف اہل عرب تک محدودبتانے کی ناپاک جسارت کی ہے، جبکہ آپ ﷺ کا امی ہونا ایک عظیم معجزہ ہے ،چونکہ اللہ سبحانہ نے تحصیل علم کے مادی ذرائع کا آپ ﷺ کو محتاج نہیں رکھابلکہ خود اپنی قدرت کاملہ سے آپ ﷺکے مبارک سینہ کو علوم ومعارف کا گنجینہ بنایا ہے۔اللہ سبحانہ جب اس طرح اپنا خصوصی انعام نازل فرماتے ہیں تو امی ہونا باعث کمال ہوجاتا ہے،اللہ سبحانہ کے ذکروفکرسے قلبی وذہنی تطہیرحاصل ہوتی ہے ۔نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمالینے کے بعدان مقاصدجلیلہ کی عظمت واہمیت کو جاننے اسکو ماننے اوراس پر خود عمل کرنے اوردوسروں کو اسکی طرف بلانے کی ذمہ داری اللہ سبحانہ نے اس خیرامت کے نازک کاندھوں پر رکھی ہے،نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہﷺ خاتم النبیین ہیں آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی اورنبی ورسول نہیں آئیں گے،آپﷺ ہی کی نبوت کا فیضان تاقیام قیامت جاری رہے گا ،اوریہ امت بھی آپ ﷺ کی نسبت سے خیرالامم اورخاتم الامم ہے یعنی ساری امتوں میں بہتر اورآخری امت ہے اس لئے اس منصب کا فیضان ہدایت کسی محدودعلاقہ،مخصوص قوم اورکسی ایک مقررزمانہ ووقت تک نہیں ہوسکتا،امت مسلمہ کو بھی سارے عالم میں ابررحمت بن کربرسنا ہے اورانسانی دلوں کی زمین میں عقیدئہ توحیداورپیغام اسلام کی تخم ریزی کرنا ہے ،اوربعثت مبارکہ کے مقاصدجلیلہ سے آشنا کرنا ہے،

روحانی اعتبارسے تشنہ انسانیت کی تشنگی بجھانا ہے تاکہ حق کی حکمرانی ہوباطل کا کفرٹوٹے ،ظلم وجورکا خاتمہ ہو،اخلاق عالیہ کا غلبہ ہو،کمزوروں،مظلوموں اورچیرہ دستوں کی دادرسی ہو،ان پاکیزہ مقاصدکی تکمیل میں اپنی جان کی بازی لگانا ،اپنا مال ووقت صرف کرنا اوراپنی توانائیوں کوبروئے کارلاتے ہوئے تادم زیست جدوجہدکرنا ہے۔اس وقت الحادودہریت کا ایک سیلاب ہے جوبنیادی اسلامی معلومات سے محروم،مادہ پرستی کا شکارافرادکودین بیزاری کے بہاؤمیں بہائے لے جارہا ہے۔یہودونصاری ،اورہنودومشرکین کی معاندانہ روش اسلام کے خلاف تیزسے تیزترہوتی جارہی ہے ،غیرمتعصب صاف ستھرے اذہان جہاں اس سے متاثرہورہے ہیں وہیں امت مسلمہ کے بعض افرادشکوک وشبہات میں مبتلاہورہے ہیں،بنیادی اعقادات کی مضبوط بنیادیں متزلزل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں،اسلام دشمنوں کی منصوبہ بند سازشوں سے عالم اسلام بکھررہا ہے ،مسلمانوں کے درمیان فروعی مسائل کو ہوادی جاکرانکوایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا نے کی سازش رچی جارہی ہے ، فلسطین ،افغانستان،لیبیا،عراق وشام،کے بعداب یمن اوربرما بھی خون میں نہارہا ہے،شام کے علاقہ حلب میں تواب بھی جان ومال اورعزت وآبروداؤ پر لگے ہوئے ہیں ،درجنوں خواتین عفت وعصمت کی صیانت کے مدنظرخودکشی کررہی ہیں،شیخ محمدالیعقوبی کا بیان ہے کہ انہیں ایسے کئی استفتاء موصول ہورہے ہیں جن میں پوچھا جارہا ہے کہ کیا حلب میں شامی افواج کی درندگی کی وجہ اپنی بہنوں اوربیٹیوں کی آبروبچانے کی غرض سے آیا انکی جان لی جاسکتی ہے؟ ان دل شکن حالات میں امت مسلمہ کواپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کس حد تک بعثت محمدیﷺکے مقاصدجلیلہ اسکے پیش نظرہیں اورکس حد تک یہ امت اپنے منصب ’’خیرامت‘‘ ہونے کی ذمہ داری کو نبھارہی ہے،ہرسال ماہ ربیع الاول آتاہے تو اپنے جلومیں خوشیوں کی سوغا ت لے آتا ہے،مسلمانان عالم جلوس وجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں ،جلوس میں راستوں کو روکنے کے ساتھ بعض مقامات پر ڈی جے بجائے جاتے ہیں ،غیرشرعی اعمال کا ارتکاب کیا جاتا ہے،جلسوں میں کچھ افرادحضورانورسیدعالم ﷺکی میلاد پاک کے نورانی واقعات اورسیرت طیبہ کے پرنورگوشوں پر روشنی ڈالنے کے بجائے دیگرمکاتب فکرکے افرادکی لعنت و ملامت کرکے عوام سے دادتحسین وصول کرتے ہیں۔ گلیاروں ،شاہراؤں اوربستیوں کوبقعہ نوربنا یا جاتا ہے ،بستیوں کی سجاوٹ میں ایک دوسرے سے بازی لیجانے کی کوشش کی جاتی ہے اس طرح خوشیاں منا ئی جا تی ہیں ،راستے مسدودکرکے کھانا کھلانے کا نظم کیا جاتاہے،اورکچھ مقاما ت پرخون کے عطیہ کیمپ قائم کئے جاتے ہیں، اس کی تکمیل کیلئے کہیں کہیں چندہ وصولی کی مہم بھی چلائی جاتی ہے۔ان امورمیں درست کیا ہے اورغیردرست کیا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس پرسارے ایمان والوں کا ایمان ویقین ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت پاک وبعثت مبارکہ عموما ساری انسانیت کیلئے بالخصوص امت مسلمہ کے حق میں’’ ہرروزروزعیدہے ہرشب شب برأت ‘‘کے مصداق ہے۔اورجوساری کائنات کیلئے مژدئہ جانفزاہے۔ اس پس منظرمیں اربات علم ودانش کو اس پر غورکرنا چاہیے کہ امت مسلمہ کا منصب کیا ہے، ان وقتی سامان خوشی ومسرت اورنبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ سے نسبت ووابستگی کے وقتی اظہارسے آیاآپ ﷺ سے نسبت کا حق اداہوسکتاہے؟ اورکیا امت مسلمہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکتی ہے ؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT