Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / بعد طلاق ملکیت نہیں بدلتی فریقین واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے

بعد طلاق ملکیت نہیں بدلتی فریقین واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نامی کی شادی بیگم نامی خاتون سے ہوئی۔ پھر دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ بیگم نامی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھیں۔ شوہر نے اس کو طلاق دیدیا۔ اب لڑکے والے جو کچھ (کپڑا، زیور وغیرہ) دیئے اور لڑکی والے لڑکے کو جو رقم وغیرہ دیئے ، اسکا کیا حکم ہے؟۔
نیز لڑکی والے شادی میں ہوے اخرجات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور لڑکے کو دی گئی رقم کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: صورتِ مسئول عنہا میں شرعًا بیگم نامی خاتون کو زیدنامی شخص اور دیگر متعلقین کی طرف سے بطور چڑھاوا دیا گیا زیور، پارچہ تحائف وغیرہ سب بیگم نامی خاتون کی ملکیت ہیں۔ اور اسی طرح زیدنامی شخص کو لڑکی والوں اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے دیئے گئے تحائف، جوڑے کی رقم وغیرہ زیدنامی شخص کی ملک ہیں۔ طلاق کے بعد بھی ملکیت تبدیل نہیں ہوتی۔ لہذافریقین میں سے کوئی بھی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد ۴ ص ۵ میں ہے: وھذا یوجد کثیرا بین الزوجین یبعث الیھا متاعا وتبعث لہ ایضا وھو فی الحقیقۃ ھبۃ۔
لڑکی والوں نے شادی کے جو مصارف کئے ہیں، وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ اسکا مطالبہ بھی درست نہیں۔
بیوہ، شرعی عذر ہو تو نقلِ مقام کرسکتی ہیں، ورنہ نہیں
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا۔ مرحوم کی زوجہ کیلئے سسرال میں اپنی عدت (چار ماہ دس دن) گزارنا مشکل ہورہا ہے۔کیا بیوہ چالیس دن کے بعد اپنے میکے منتقل ہوکر اپنی عدت گزار سکتی ہے؟ بینوا تؤجروا
جواب: زید کی بیوہ اپنی عدت اسی مکان میں پوری کے، جہاں اسکو شوہر نے رکھا تھا۔ اگر مکان منہدم ہونے کا، یاجان و مال کا خدشہ ہو، یا اجرت کی ادائی سے عاجز ہو تو نقل مقام کرکے اپنے میکے میں رہ سکتی ہیں، ورنہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الحداد ص ۵۳۵ میں ہے: اِن اضطرت اِلی الخروج من بیتھا بأن خافت سقوط منزلھا أو مالالھاأو کان المنزل بأجرۃ ولا تجد ما تؤدیہ فی أجرتہ فی عدۃ الوفاۃ فلابأس عند ذلک أن تنتقل و اِن کانت تقدر علی الأجرۃ لا تنتقل۔
بچوں کی پرورش اور ملاقات کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور ہندہ کے درمیان طلاق کے ذریعہ علحدگی ہوگئی۔ اب دونوں کو دولڑکے ایک آٹھ سالہ اور ایک سات سالہ ہیں۔ ان دونوں بچوں کی پرورش اور ملاقات کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: اٹھ سالہ و سات سالہ دونوں لڑکوںکی عمر سات سال ہونے تک انکی پرورش کا حق ماں کو تھا۔سات سال کے ہونے کے بعد انکی تربیت انکے والد زید کے پاس ہوگی۔ سات سال کے بعد ماں کا حق پرورش ختم ہوگیا۔ تاہم لڑکے ماں کے پاس رہنے کے زمانے میں والد کو اور والد کے پاس آنے کے بعد ماں کو ملاقات سے روکنا درست نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الحضانۃ ص ۵۴۱ میں ہے: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم ۔ اور ص ۵۴۲ میں ہے: والأم والجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی وقدر بسبع سنین … وبعد مااستغنی الغلام وبلغت الجاریۃ فالعصبۃ أولی یقدم الأقرب فالأقرب۔ اور ص ۵۴۳ میں ہے: الولد متی کان عند أحد الابوین لا یمنع الآخر عن النظر الیہ وعن تعاھدہ کذا فی التتارخانیۃ ناقلا عن الحاوی۔ فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT