Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / بغداد میں بازاروں پربم حملے، 69 ہلاک

بغداد میں بازاروں پربم حملے، 69 ہلاک

Security forces and citizens inspect the scene after a bomb explosion at an outdoor market in Baghdad's northern neighborhood of Shaab, Iraq, Tuesday, May 17, 2016. A bomb at an outdoor market in a Shiite-dominated Baghdad neighborhood on Tuesday killed more than 30 people and wounded dozens a police official said, the latest in a wave of deadly militant attacks far from the front lines in the country's north and west where Iraqi forces are battling the Islamic State group. (AP Photo/Khalid Mohammed)

دولت اسلامیہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی، شیعہ نیم فوجی تنظیم کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا ادعا

بغداد 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بغداد کے مضافاتی شیعہ غالب آبادی والے علاقہ میں بازاروں پر بم حملوں کی ایک لہر سے کم از کم 69 افراد ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں کے بموجب تازہ ترین مہلک عسکریت پسند حملہ ملک کے شمال اور مغرب کے جنگ کے محاذوں سے کافی فاصلہ پر واقع ہے جہاں عراقی افواج دولت اسلامیہ کے جہادیوں سے مقابلہ کررہی ہیں۔ ایک آن لائن بیان میں دولت اسلامیہ نے مہلک ترین بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔ یہ حملے بغداد کے شمال مشرقی پڑوسی علاقہ شاب میں کئے گئے جہاں کم از کم 69 افراد ہلاک اور دیگر 65 زخمی ہوگئے۔ اِس حملہ میں لبِ سڑک پر بم دھماکہ سب سے پہلے ہوا۔ کانکریٹ کی دیواریں ایک کھلے بازار کے اطراف تعمیر کی گئی ہیں۔ اِس بم دھماکہ کے بعد ایک خودکش بم بردار نے اپنے آپ کو عوام کے ایک ہجوم میں دھماکہ سے اُڑالیا جو پہلے دھماکہ کے مہلوکین کی مدد کے لئے جمع ہوگیا تھا۔ دولت اسلامیہ کا ایک بیان انتہا پسندوں کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے جس کے بموجب یہ حملہ شیعہ نیم فوجی تنظیم کے ارکان کو نشانہ بناکر کیا گیا تھا۔ اِس پیغام کی آزادانہ ذرائع سے توثیق نہیں ہوسکی۔

شاب کے  حملہ کے کچھ دیر بعد ایک کھڑی ہوئی کار میں جو پھلوں اور ترکاریوں کے بازار میں علاقہ ڈورا میں جو بغداد کے جنوب میں واقع ہے، دھماکہ ہوا جس سے 8 افراد ہلاک اور 22 دیگر زخمی ہوگئے۔ پولیس کے بموجب بغداد کے مشرقی مضافاتی علاقہ صدر سٹی میں ایک خودکش کار بم حملہ پرہجوم بازار میں کیا گیا جس سے 18 افراد ہلاک اور دیگر 35 زخمی ہوگئے۔ طبی عہدیداروں نے ہلاکتوں کی توثیق کردی۔ تجارتی اور عوامی مقامات شیعہ غالب آبادی کے علاقہ میں وقفہ وقفہ سے سنی عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں حالانکہ حکومت عراق نے دارالحکومت میں امن برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گزشتہ ہفتہ بم حملوں کی ایک لہر میں تقریباً200  افراد ہلاک ہوگئے۔ تاہم دولت اسلامیہ اب اپنے حملوں کو صرف بغداد تک محدود رکھنے تیار نہیں ہے۔ قبل ازیں عراقی تیل کارکنوں نے ایک قدرتی گیس کے کارخانے میں جو بغداد کے شمال میں واقع ہے، دوبارہ کام شروع کردیا تھا۔ دو دن قبل ایک حملہ میں یہاں پر 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد کارخانے میں کام بند ہوگیا تھا۔ ہفتہ کے دن قصبہ تاجی میں حملہ کیا گیا تھا۔ اِس حملہ کے بعد دولت اسلامیہ کے جنگجو زبردستی کارخانے میں داخل ہوگئے تھے اور صیانتی عملہ سے اُن کا تصادم ہوا تھا۔ تاہم حملہ آوروں نے پسپائی اختیار کرلی تھی۔

TOPPOPULARRECENT