Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / بلانقدی معاشی نظام کو فروغ ، پلاسٹک کرنسی کی حوصلہ افزائی

بلانقدی معاشی نظام کو فروغ ، پلاسٹک کرنسی کی حوصلہ افزائی

نوٹوں کی منسوخی سے روزمرہ کی معاملتوں میں اے ٹی ایم، ڈیبٹ ؍ کریڈٹ کارڈس کے استعمال میں اضافہ

ممبئی۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے منگل کی شام ایک اچانک اور انتہائی حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کے چلن کو آن واحد میں بند کردیا جس کے ساتھ ہی کل تک قیمتی اثاثہ سمجھے جانے والے یہ نوٹ آج ایک ’’ٹشو پیپر‘‘ کی حد تک گھٹ گئے ہیں۔ اگرچہ انہیں بینکوں میں ڈپازٹ کرتے ہوئے نئے نوٹوں سے تبدیل کیا جاسکتا ہے، لیکن حکومت کا یہ فیصلہ کئی مقاصد پر مبنی ہے جس کا ایک مقصد جرائم اور رشوت ستانی کے راستہ سے بٹورا گیا کالا دھن بے نقاب کرنا ہے تو دوسری طرف ملک میں بلانقدی معیشت کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس صورت میں نقدی کو ’’بادشاہ‘‘ کا موجودہ مقام حاصل نہیں رہے گا بلکہ اے ٹی ایم کریڈ کارڈ، ڈیبٹ کارڈس کا راج چلے گا۔ اس ’پلاسٹک کرنسی‘ کا آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں نقد رقم سے بھی زیادہ آسان استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے تمام کارڈس بالعموم بینکوں سے جاری کئے جاتے ہیں اور بینکوں سے ہی مربوط رہتے ہیں، یا پھر ریزرو بینک آف انڈیا سے منظورہ مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کئے جاتے ہیں، تاہم ’پری پیڈ کارڈ‘ پیشگی رقم کی ادائیگی پر بینک اور غیربینکنگ اداروں کی طرف سے جاری کئے جاتے ہیں۔ عام زبان میں ’پلاسٹک کرنسی‘ کہلائے جانے والے یہ کارڈس نہ صرف اشیاء کی خرید و فروخت کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں بلکہ ان سے اپنے کھاتوں سے رقومات کی دستبرداری بھی کی جاسکتی ہے۔ ایک بینک کھاتے سے دوسرے کھاتے کو رقم کی منتقلی کا ایک اور ذریعہ الیکٹرانک منتقلی بھی شامل ہے جس میں تین سہولتیں ہوتی ہیں جیسے نیشنل الیکٹرانک فنڈس ٹرانسفر (این ای ایف ٹی) رئیل ۔ ٹائم گراس سٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) اور امیڈیئٹ پے منٹ سرویس (آئی ایم پی ایس) ہیں۔ ان تینوں خدمات سے عوام کو ایک بینک کھاتہ سے دوسرے کو رقومات کی منتقلی کی سہولت حاصل ہے۔ این ای ایف ٹی سے بینک اوقات کے دوران رقومات کی منتقلی ہوسکتی ہے۔ آر ٹی جی ایس سے بھاری رقومات کا تبادلہ ہوتا ہے جس کا آغاز کم سے کم 2 لاکھ روپئے سے ہوتا ہے۔ آئی ایم پی ایس کے ذریعہ رقم کی فوری منتقلی ہوسکتی ہے اور یہ خدمات روزانہ 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں، لیکن آئی ایم پی ایس سے زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ روپئے ہی منتقل کئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT