Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / بلاوقفہ برقی سربراہی کے اقدامات کا منصوبہ

بلاوقفہ برقی سربراہی کے اقدامات کا منصوبہ

بی رگھوما ریڈی چیرمین تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن لمٹیڈ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 19 نومبر (سیاست نیوز) شہر میں بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کس حد تک بہتر ہوچکے ہیں اس کا اندازہ گزشتہ ایک برس کے دوران ریاست تلنگانہ میں معیاری برقی سربراہی اور بغیر خلل کے کی گئی سربراہی سے لگایا جاسکتا ہے۔ مسٹر بی رگھوما ریڈی صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن لمیٹیڈ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ محکمہ برقی کی جانب سے آئندہ برسوں میں مزید بہتری اور معیاری برقی سربراہی کے اقدامات کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق شہری علاقوں میں برقی سربراہی کے لئے اضافی سب اسٹیشنس کے قیام کے علاوہ دیگر اقدامات کئے جانے ہیں۔ انھوں نے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ فی الحال صارفین کی جملہ تعداد ایک کروڑ 23 لاکھ ہے جن میں گھریلو صارفین کی تعداد 89 لاکھ ہے۔ ہائی ٹنشن سرویس رکھنے والے صارفین کی تعداد 11,447 ہے جبکہ زرعی صارفین کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مسٹر رگھوما ریڈی نے بتایا کہ محکمہ برقی کو ہونے والے نقصانات کی پابجائی اور ان میں تخفیف کے لئے کئے گئے متعدد اقدامات انتہائی کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ سال گزشتہ نقصانات کے متعلق جاری کردہ تفصیل میں 12.68 فیصد برقی خسارہ دکھایا گیا تھا جبکہ اس مرتبہ اس میں کافی کمی آئی ہے اور یہ 11.83 فیصد تک پہونچ چکا ہے۔ مسٹر رگھوما ریڈی کے ہمراہ اس موقع پر ڈائرکٹرس ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل جناب میر کمال الدین علی خاں، مسٹر کے سرینواس ریڈی موجود تھے۔ صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر TSSPDCL نے بتایا کہ سال گزشتہ 11.60 ملین یونٹ یومیہ کمی ریکارڈ کی جارہی تھی اور جو طلب تھی 6,755 میگاواٹ تک پہونچ چکی تھی لیکن محکمہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث برقی قلت سے اندرون ایک سال ریاست کو باہر نکالنے میں کامیابی ملی ہے اور اب پیداوار 6,849 میگاواٹ تک پہونچ چکی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ پیداوار کا ریکارڈ 16 اکٹوبر 2015 ء تک کا پیش کیا جارہا ہے اور 154.97 ملین یونٹ برقی کھپت 15 اکٹوبر 2015 ء تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے برقی سربراہی و پیداوار پر باریک بینی سے نظر رکھتے ہوئے کئے جانے والے اقدامات کے سبب برقی صورتحال میں کافی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ مسٹر رگھوما ریڈی نے بتایا کہ 2014-15 ء کے دوران 99.66 فیصد مالیہ وصول ہوا ہے جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ برقی سربراہی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے علاوہ دیہی علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے آئندہ 2 سال کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے محکمہ برقی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ریاست میں 33/11kv کے 2,301 سب اسٹیشنس موجود ہیں جبکہ ای ایچ ٹی سب اسٹیشنس کی تعداد 216 ہے اور ٹرانسفارمرس کی تعداد 5 لاکھ 32 ہزار 924 ہوچکی ہے۔ مسٹر رگھوما ریڈی نے بتایا کہ زرعی صارفین کو 9 گھنٹے برقی سربراہی کا مارچ سے آغاز ہونے کا قوی امکان ہے اور اس سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ فی الحال زرعی صارفین کو 5 تا 6 گھنٹے برقی سربراہی یقینی بنائی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT