Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / بلجیم میں دہشت گرد حملے کا اندیشہ، میٹرو ٹرین سرویس بند

بلجیم میں دہشت گرد حملے کا اندیشہ، میٹرو ٹرین سرویس بند

عوام کو پُرہجوم مقامات پر نہ جانے کی ہدایت ، پیرس حملوں کا مفرور ملزم ہنوز لاپتہ ، ترکی میں بلجیم کا شہری محروس

بروسیلز۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بروسیلز میں آج میٹرو ریل سسٹم مکمل طور پر بند کردیا گیا اور دہشت گرد چوکسی کو انتہائی اعلیٰ سطح تک بڑھا دیا گیا تھا کیونکہ پیرس حملوں کے بعد ایک بندوق بردار ہنوز مفرور ہے اور اس کے تعلق سے سارے یوروپ میں خوف پایا جاتا ہے۔ بلجیم کے دارالحکومت بروسیلز میں آج عام شہریوں کو پُرہجوم علاقوں سے دُور رکھنے کی ہدایت دی گئی کیونکہ یہ اطلاعات ملی تھیں کہ بلجیم نژاد جہادیوں سے شدید خطرہ لاحق ہے اور پیرس میں ہوئے دہشتناک تباہی سے ان کا رابطہ واضح ہوتا جارہا ہے۔

تحقیقاتی عہدیدار مسلسل صالح عبدالسلام کی تلاش میں سرگرداں ہیں، یہ وہ بندوق بردار ہے جو پیرس میں مختلف مقامات پر کئے گئے حملوں کی لہر میں باہمی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے فرار ہوگیا تھا۔ اس حملے میں 130 افراد ہلاک ہوگئے جس نے سارے یوروپ میں بے چینی و خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے اور اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مفرور جہادی یوروپ کے کس ملک میں چھپا ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بعد یوروپی یونین نے سرحدوں پر  چیکنگ کے سسٹم میں مزید سختی پیدا کردی ہے۔ ترکی نے مراقشی نژاد بلجیم کے شہری 26 سالہ احمد دحمنی کو آج حراست میں لے لیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے پیرس حملوں کے لئے مقامات کی نشاندہی میں مدد کی تھی۔ اُسے جنوبی جزیرہ نما شہر انطالیہ کے قریب دو شامی شہریوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا جو شام میں سرحد پار کرنے میں اس کی مدد کررہے تھے۔ انسداد دہشت گردی پولیس احمد دحمنی پر انطالیہ ایرپورٹ پہونچنے کے ساتھ ہی نظر رکھی ہوئی تھی۔ پہلے اس نے 16 نومبر کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں بکنگ کرائی تھی ۔ بعدازاں احمد دحمنی اور دو شامی شہریوں کو حراست میں لیا گیا جنہوں نے بتایا جاتا ہے کہ آئی ایس قیادت کو ایک فرضی پاسپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری دی اور دحمنی کو شام میں جہادی کے زیرکنٹرول علاقے تک بحفاظت لے گئے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان تمام کو کب حراست میں لیا گیا، تاہم انہیں عدالت میں پیش کیا جانے والا ہے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل نے کل تمام ممالک کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اسلامک اسٹیٹ جہادیوں اور دیگر انتہا پسند گروپس سے نمٹنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ کی یہ قرارداد ایسے وقت سامنے آئی جبکہ القاعدہ کی شاخ سے تعلق رکھنے والے جہادی بندوق برداروں نے مالی کے دارالحکومت بماکو میں ایک لکژری ہوٹل کا محاصرہ کرلیا تھا۔ پیرس اور بیروت حملوں کے بعد مالی دہشت گردوں کا نشانہ بنا۔ اس کے علاوہ تین ہفتے قبل آئی ایس نے روس کے ایک طیارہ کو مار گرایا تھا جس میں 244 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پیرس میں آج بھی غم کا ماحول چھایا رہا اور عوام کی کثیر تعداد نے اُن مقامات پہنچ کر بم حملے کئے گئے تھے ، مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT