Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / بلجیم نے داعشی حملہ آور سے متعلق انتباہ نظر انداز کردیا تھا : طیب اردغان

بلجیم نے داعشی حملہ آور سے متعلق انتباہ نظر انداز کردیا تھا : طیب اردغان

Turkish President Recep Tayyip Erdogan releases a bird during an opening ceremony for a new mosque in the Black Sea town of Rize, Turkey, Friday, Aug. 14, 2015. Efforts on Thursday by Turkish Prime Minister Ahmet Davutoglu to forge a coalition alliance with the country's pro-secular party failed, edging Turkey closer toward new elections as it grapples with escalating violence. Erdogan was reported to favor renewed elections in the fall, in the hope that the ruling party, which he founded, can regain a parliamentary majority. (AP Photo/Ugur Can/ Dogan News Agency) TURKEY OUT

ابراہیم البکراوی کو ترکی سے خارج کردیا گیا تھا ۔ صدر ترکی کا پریس کانفرنس میں انکشاف
انقرہ ۔ 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ترک صدر رجب طیب اردغان نے انکشاف کیا ہے کہ بلجیم نے برسلز میں خودکش حملے کرنے والوں میں سے ایک بمبار کے بارے میں انتباہ کو نظرانداز کردیا تھا۔اس کو ترکی نے گذشتہ سال ملک سے بے دخل کیا تھا اور بلجیم کے حکام کو بتایا تھا کہ یہ شخص جنگجو ہے لیکن انھوں نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ترک صدر نے اس شخص کی شناخت ابراہیم البکراوی کے نام سے کی ہے۔اس نے اور اس کے بھائی خالدالبکراوی نے برسلز میں منگل کے روز خودکش بم دھماکے کیے تھے جن کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک اور کم سے کم 260 زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے ان بم حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بیلجیئن حکام نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن ماضی میں وہ اس طرح کے کیسوں کے بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ جرم کے ثبوت کے بغیر وہ ترکی سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو جیلوں میں نہیں ڈال سکتے ہیں۔ان کی نظر میں شام میں صرف لڑنا ہی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ اس کو ثابت کرنا بھی ضروری تھا۔

اس طرح کے کیسوں میں پیرس میں خودکش بم دھماکے کرنے والوں میں سے ایک حملہ آور ابراہیم عبدالسلام بھی شامل ہے۔اس کو بھی ترکی نے 2015ء کے اوائل میں بے دخل کرکے بلجیم کے حوالے کیا تھا لیکن بلجیم حکام نے اس کو رہا کردیا تھا۔ ترک صدر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہیکہ البکراوی کو ترکی کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے غازیان تیپ سے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر اس کو نیدرلینڈز کے حوالے کیا گیا تھا۔ترکی نے ڈچ حکام کو اس کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ صدر اردغان نے کہا کہ برسلز میں حملہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کو ہم نے جون 2015ء  میں گرفتار کیا تھا اور پھر اس کو ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔ہم نے اس کی بے دخلی کی اطلاع انقرہ میں بیلجیئن سفارت خانے کو 14 جولائی 2015ء کو دی تھی لیکن اس کو ملک میں پہنچنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔بلجیم نے ہمارے انتباہ کو نظرانداز کردیا تھا کہ یہ شخص غیرملکی جنگجو ہے۔

ترک صدر کے دفتر نے اس امر کی تصدیق کی ہیکہ اس شخص کو نیدرلینڈز ڈی پورٹ کیا گیا تھا مگر بلجیم میں پہنچنے کے بعد اس کو حکام نے رہا کردیا تھا کیونکہ انھیں اس کا دہشت گردی سے تعلق کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ البکراوی کو کب بیلجیئن حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ صدر اردغان نے پہلے یہ کہا تھا کہ خودکش بمبار ابراہیم البکراوی کو جون میں ڈی پورٹ کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان کے دفتر نے وضاحت کی ہیکہ اس کو جون میں گرفتار کیا گیا تھا اور جولائی میں ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ترکی کو خود بھی اس وقت داعش اور کرد باغیوں کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔برسلز میں ہوائی اڈے اور میٹرو ٹرین کے اسٹیشن پر بم دھماکوں سے چند روز قبل داعش کے ایک بمبار نے استنبول کے مصروف کاروباری علاقہ میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس حملے میں تین اسرائیلی اور ایک ایرانی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT