Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ انتخابات میں عوام تلگو دیشم ، کانگریس اور بی جے پی کو مسترد کریں گے

بلدیہ انتخابات میں عوام تلگو دیشم ، کانگریس اور بی جے پی کو مسترد کریں گے

ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ، وزیر آئی ٹی و پنچایت راج کے ٹی راما راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/15جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں رائے دہندے تلگودیشم، کانگریس اور بی جے پی کو مسترد کردیں گے اور ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے۔ مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قائدین نے آج تلنگانہ بھون پہنچ کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ حفیظ پیٹ کے سابق کانگریسی کارپوریٹر جگدیش گوڑ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے انچارج شیر لنگم پلی دھنا لکشمی کے علاوہ دیگر قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ کے ٹی آر نے ان قائدین کا پارٹی میں خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ ویشویشور ریڈی اور دیگر موجود تھے۔ کے ٹی آر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گریٹر انتخابات میں پارٹی شاندار مظاہرہ کرے گی اور اسمبلی انتخابات کی طرح بلدیہ پر بھی ٹی آر ایس کا قبضہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی سے قبل ہی پارٹی میں جشن کا ماحول ہے اور کارکنوں کا جوش و خروش رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کے دفتر میں اس قدر جوش و خروش نہیں جس طرح  ٹی آر ایس کے دفتر میں دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کی ترقی اور عوامی بھلائی صرف ٹی آر ایس سے ہی ممکن ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شخصی طور پر شہر کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کا جائزہ لیا اور جامع منصوبہ کے ساتھ وہ اسکیمات تیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس دور حکومت میں شہر کے مسائل کی یکسوئی کردی جائے گی اور حیدرآباد کا شمار دنیا کے ترقیافتہ شہروں میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں آج ٹریفک کے جو مسائل ہیں اس کی یکسوئی کیلئے منصوبہ سازی کی جارہی ہے۔ میٹرو ریل پراجکٹ کے ذریعہ ٹریفک مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور برقی کے مستقل حل کیلئے حکومت کوشاں ہے اور آئندہ تین برسوں میں نہ صرف ہر گھر کو پینے کا پانی فراہم ہوگا بلکہ برقی شعبہ میں تلنگانہ خود مکتفی ہوجائے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شہر کی پانی کی ضرورت کی تکمیل کیلئے دو نئے ذخائر آب تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے شہر کی پسماندگی اور عوامی مسائل کیلئے سابق حکمرانوں کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اگر عوام ٹی آر ایس کو میئر کے عہدہ پر منتخب کرتے ہیں تو عوامی مسائل کی یکسوئی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 54جنکشنس کو عصری بناتے ہوئے ٹریفک کے مسئلہ کی یکسوئی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں کانگریس، تلگودیشم اور مجلس کو میئر کے عہدہ پر عوام نے موقع دیا لیکن شہر کی ترقی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ نئی ریاست میں اگر برسر اقتدار پارٹی کو گریٹر حیدرآباد میں ایک بار موقع دیا گیا تو وہ شہر کی حالت تبدیل کردے گی۔ انہوں نے بی جے پی کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ مرکز میں اقتدار کے سبب وہ شہر کی ترقی پر زائد فنڈز حاصل کرسکتی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت کا رویہ تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا ہے اور بی جے پی قائدین تلنگانہ کیلئے خصوصی فنڈز اور پیاکیج حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی قائدین سے کہا کہ وہ شہر کی ترقی میں اپنی حصہ داری کی تفصیلات بیان کریں۔ انہوں نے گریٹر انتخابات میں 100نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا۔

TOPPOPULARRECENT