Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ سدی پیٹ کے نتائج ،ٹی آر ایس کے قلعہ میں دڑاڑ کا اشارہ

بلدیہ سدی پیٹ کے نتائج ،ٹی آر ایس کے قلعہ میں دڑاڑ کا اشارہ

تمام نشستوں پر کامیابی کا خواب پورا نہ ہوا ، مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی واضح تصویر سامنے ، نوشتۂ دیوار پڑھ لینے کی ضرورت
سدی پیٹ ۔ 11 اپریل ۔ ( سیاست نیوز ) بلدیہ سدی پیٹ کے نتائج کا آج اعلان کردیا گیا جس کے تحت 34 نشستوں میں سے ٹی آر ایس نے 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی اور کانگریس 2 ، 2 نشستوںپر کامیاب رہے جبکہ ایم آئی ایم 1 نشست پر اور آزاد و باغی امیدوار 7 نشستوں پر منتخب ہوئے اس طرح روزنامہ سیاست میں 10 اپریل کو نتائج کے تعلق سے جو تبصرہ شائع ہوا تھا وہ حقیقت سے قریب نکلا ۔1 ، 2، 7 ، 8 ، 9 ، 10 ، 11 ، 12، 13، 15، ،16، 18 ، 19، 20 ، 21، 23، 24، 26،28،29، 31، 32  پر ٹی آر ایس نے قبضہ جمایا ۔ کانگریس وارڈ نمبر 6,30 ، پر کامیاب ہوئی جبکہ بی جے پی وراڈ نمبر 14,7 پر اور مجلس وارڈ نمبر 33 اور آزاد امیدواران وراڈوں 3، 4، 5، 22، 25، 27، 34 پر کامیاب ہوئے ۔ عوام یہ بات اچھی طرح جان گئے کہ سدی پیٹ جوکہ ٹی آر ایس کا ناقابل تسخیر قلعہ تھا بلدی انتخابات کے نتائج نے اس میں دراڑ پیدا کردی۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ٹی آر ایس قیادت میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور ایسے وارڈس میں غیرمسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جہاں مسلمانوں کی کثیرآبادی ہے جہاں پر مسلم امیدوار آسانی سے انتخاب جیت چکے ہیں جس کی مثال وارڈ نمبر 30 سے دی جاسکتی ہے یہاں پر عرصہ دراز سے مسلم امیدوار کامیاب ہوتے آرہا تھا چونکہ یہاں مسلمانوں کی کثیرتعداد آباد ہے لیکن اس مرتبہ غیرمسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کے سبب کانگریس کا مسلم امیدوار کامیاب ہوگیا۔ اس طرح برسراقتدار جماعت کی یہ خوش فہمی دور ہوگئی کہ کسی کو بھی ٹکٹ دینے پر امیدوار کامیاب ہوسکتا ہے ۔ وارڈ نمبر 33 میں ٹی آر ایس نے ایک غیرمعروف امیدوار کو ٹکٹ دیا جو کے اپوزیشن کے سامنے ٹک نہ سکا ۔ سدی پیٹ کے انتخابی نتائج میں آزاد امیدوار دوسرے پوزیشن پر رہے جو کہ ٹی آر ایس قیادت کے لئے لمحہ فکر ہے ۔ چونکہ انتخابی مہم کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا جارہا تھا کہ ٹی آر ایس دیگر پارٹیوں کا صفایا کردیگی لیکن حیرت کی بات ہے کہ خود اُس کے بعض امیدواروں کو دیگر پارٹیوں نے شکست دیدی ۔ سدی پیٹ کی عوام نتائج کو دیکھ کر حیرت زدہ ہیں کہ پارٹی کے بڑے قائدین بشمول ڈپٹی سی ایم فلم ایکٹر بابو موہن ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی، ضلع پریشد چیرمین بلدی میئرس مختلف اضلاع کے قائدین بھی انتخابی مہم میں حصہ لیکر بھی امیدواروں کو کامیاب نہ کرواسکے ۔ اسطرح تقریباً غیرجماعت کے امیدوار کامیاب ہوئے جس  سے اس بات کا شائبہ پایا جاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مذکورہ بڑے قائدین سے بھی چوک ہوگئی جس کے نتائج سامنے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ انتخاب جینے والے بعض امیدوار ٹی آر ایس میں شامل ہوجائیں گے ۔ بہرحال یہ بات آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ سدی پیٹ جیسے ٹی آر ایس کے مضبوط حلقہ میں آج دراڑ واضح نظر آرہی ہے ۔ 34 رکنی کونسل میں 4 مختلف جماعتوں کے مسلم امیدوار بلدیہ میں داخل ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT