Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ کی جائیدادیں صرف 25 برس کیلئے لیز پر

بلدیہ کی جائیدادیں صرف 25 برس کیلئے لیز پر

طویل عرصہ سے قابض افراد کو عمارتیں خالی کرائی جائیں گی
حیدرآباد ۔ 5 اگست (سیاست نیوز) طویل مدت سے بلدیہ کی جائیدادوں سے استفادہ کرنے والوں کو بلدیہ کی اسٹانڈنگ کمیٹی نے زبردست شاک دیا ہے۔ 25 برس لیز کا عرصہ ختم ہونے پر انہیں خالی کرانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اسی لئے بلدیہ کا قانون 1955 کے سیکشن 148 میں ترمیم کرکے منظوری کیلئے حکومت کو روانہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ میئر بی رام موہن کی صدارت میں منعقدہ بلدیہ کی اسٹانڈنگ کمیٹی نے کل 13 قراردادیں منظور کی ہیں۔ طویل عرصہ سے بلدیہ کی جائیدادیں پرویٹ افراد کے قبضہ میں ہیں۔ چار سال قبل عہدیداروں کی جانب سے شروع کئے گئے اقدامات میں 272 بلدیہ کی جائیدادوں کو لیز پر دیئے جانے کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ اعداد میں سے صرف 104 جائیدادوں کا ریکارڈ ہی تیار کیا گیا مگر اب وہ ریکارڈ بھی نہیں ہے صرف 86 جائیدادوں کا ریکارڈ ہی دستیاب ہے۔ بلدیہ کی جائیدادیں دوسرے تیسرے فرد کے قبضہ میں عوامی سہولیات کیلئے طویل عرصہ قبل بلدیہ کی جائیدداوں کو بہت کم کرایہ پر دیا گیا تھا مگر ان جائیدادوں پر کرایہ دار نہیں رہتے بلکہ کرایہ دار تین چار حصہ بڑھ کر کرایہ پردوسرے یا تیسرے شخص کو دے رہے ہیں اور بلدیہ سے کرایہ حاصل کرنے والے افراد اپنی ذاتی جائیداد تصور کررہے ہیں۔ بلدیہ کی جائیداد پر 25 سالہ لیز کی مدت ختم ہونے کے باوجود عہدیداران نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ میونسپل قانون اور بلدیہ کے قواعد کے مطابق 25 سالہ لیز کی مدت ختم ہوتے ہی جائیداد کو خالی کرنا ہے۔ بلدیہ اسٹیٹ اور کامپلکس میں لیز کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی 886 افراد جائیدادوں پر قابض ہیں۔ اسٹیٹ کیلئے 30 اسسٹنٹ اسٹیٹ آفیسرس اور 30 رینٹ کلکٹرس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مرکزی دفتر میں 10 افراد پر مشتمل عملہ کی ضرورت ہے تو وہاں صرف چار افراد پر ہی اکتفا کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف جائیدادوں کے کرایہ وصول کرنے کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنرس کو سونپی گئی ہے اور سرکلس میں کرایہ وصول کرنے کیلئے عملہ نہیں ہے۔ جائیداد ٹیکس وصول کرنے والے بل کلکٹرس کو مختلف سروے، فہرست رائے دہندگان اور ٹریڈ لائسنس فیس کے ساتھ ساتھ بلدیہ کی جائیدادوں کے کرایہ وصول کرنے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔ مختلف مصروفیات کی وجہ سے بل کلکٹرس کرایہ وصول نہیں کرپا رہے ہیں جس کی وجہ سے بلدیہ کو نقصان ہورہا ہے۔
اسٹانڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں منظور کردہ قراردادیں
٭ 2015-16ء عمل آوری رپورٹ کی تیاری
٭ پٹھان چیرو سرکل میں قدیم مارکٹ کامپلکس کے مقام پر 3.95 کی لاگت سے جدید مارکٹ کی تعمیر
٭ عظیم تر بلدیہ کے 155 کارپوریٹرس کو 5 لاکھ لاگتی ہیلت اسکیم (کارپوریٹر، بیوی، دو بچے اور ان کی ذمہ داری میں رہنے والے دو افراد کیلئے)
٭ راماچندرا پور میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے
٭ 33.25 کروڑ رقم کے عوض 95 ایکر زمین خریداری کیلئے حکومت کو سفارشات روانہ کی جائیں گی
٭ الوال سرکل ترکاپلی میں 2.25 کروڑ لاگتی ڈرینج سسٹم کی تعمیر
٭ جواہر نگر میں جے این این یو آر ایم اسکیم کے حصہ کے طور پر بقیہ 256 مکانات کی تعمیر کیلئے ہیڈ کو فنڈس سے 4.37 کروڑ اور 176 مکانات کی تعمیر کیلئے 3.24 کروڑ ہیڈ کو سے ہی حاصل کئے جائیں گے۔
٭ عبداللہ پورمیٹ میں جے این این یو آر ایم اسکیم کے حصہ میں ایک اور دو پیاکیج میں نامکمل مکانات کی تعمیر کیلئے بالترتیب 3.43 اور 4.07 کروڑ مختص
٭ بلدیہ میں عوامی رابطہ کے طریقہ کار کو مضبوط کرنا
٭ مچھرکش کیلئے 49.15 لاکھ کرایہ پر تین گاڑیوں پر ماؤنٹڈ فاگنگ مشتوں کی تنصیب

TOPPOPULARRECENT