Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بلدیہ کی فٹ پاتھ برخواستگی مہم سے چھوٹے تاجرین متاثر

بلدیہ کی فٹ پاتھ برخواستگی مہم سے چھوٹے تاجرین متاثر

متبادل جگہ کی فراہمی بھی ندارد، عالیشان عمارتوں پر بلدیہ کی خاموشی
حیدرآباد 16 ستمبر (سیاست نیوز) شہر کے مختلف مقامات پر بلدیہ کی جانب سے فٹ پاتھ قابضین کو برخاست کرنے کے لئے چلائی جارہی مہم کے نتیجہ میں سینکڑوں چھوٹے تاجرین متاثر ہورہے ہیں اور اُنھیں روزگار کے لئے دوسری جگہ میسر نہیں آرہی ہے۔ اس کے برعکس بلدی عہدیدار شہر میں جاری کئی غیر مجاز تعمیرات پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں کی گئی انہدامی کارروائی کے متاثرین کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں سے یہ سوال کیا جاچکا ہے کہ وہ غیر مجاز عالیشان عمارتوں کی تعمیرات پر کیوں خاموش تماشائی ہیں جبکہ چھوٹے تاجرین اپنی معمولی تجارت کے ذریعہ روزی روٹی کمارہے ہیں اُنھیں بیدخل کیا جارہا ہے۔ بلدی عہدیدار اس مسئلہ پر کوئی جواب دینے سے قاصر ہیں لیکن شہر کے مختلف مقامات پر جاری غیر مجاز تعمیرات کے متعلق عہدیداروں کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود عہدیدار نہیں چاہتے کہ وہ ان تعمیرات کو فوری طور پر روکتے ہوئے کارروائی کرے۔ غیر مجاز تعمیرات کو نہ روکے جانے کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب شکایات کی جاتی ہیں اُس کے باوجود بلدی عہدیداروں کی جانب سے حرکت میں نہ آنا اس بات کی یقین دہانی کے مترادف ہوجاتا ہے کہ بلدی عہدیدار توجہ دہانی کے باوجود کیوں خاموش ہیں۔ حالیہ دنوں میں تاریخی چارمینار و مکہ مسجد کے درمیان ہوئی ایک تعمیر کے متعلق ہائی کورٹ میں جاری مقدمہ کے دوران بلدی عہدیداروں نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ شہر میں ہونے والی تمام غیر مجاز تعمیرات کے لئے صرف وہ ذمہ دار نہیں ہے جبکہ تعمیراتی کاموں کے دوران اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو وہ سب سے اہم محکمہ جی ایچ ایم سی ہوتا ہے۔ بلدی قوانین کی رو سے جب کسی عمارت کی تعمیر کے لئے درخواست داخل کی جاتی ہے اور اُس پر معینہ مدت میں کارروائی نہیں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں درخواست گذار تعمیراتی کاموں کو آگے بڑھاسکتا ہے۔ عموماً غیر مجاز تعمیرات کو فروغ دینے میں بلدی عہدیداروں کا اہم کردار نظر آتا ہے چونکہ درخواست گذاروں سے وہ درخواست تو وصول کرلیتے ہیں لیکن معینہ مدت میں اُس کی یکسوئی کے ذریعہ تعمیراتی کاموں کی راہ ہموار کرنے لگتے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر چھوٹے تاجرین کو ہراسانی کے واقعات کے بعد اب یہ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ آیا بلدی عہدیداروں کی جانب سے اُن غیر مجاز تعمیرات کے خلاف بھی اسی طرح سے تیز رفتار کارروائی کی جائے گی یا پھر جس طرح سابق میں اچانک مہم شروع کرنے کے چند یوم بعد خاموشی اختیار کرلی گئی اُسی طرح ایک مرتبہ پھر عالیشان عمارتوں کو چھوٹ فراہم کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT