Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی : کے ٹی راما راؤ

بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی : کے ٹی راما راؤ

غیر علاقائی حکمرانوں نے 50 سال کے دوران حیدرآباد کو آلودگی کا شکار بنادیا ، میٹ دی پریس سے خطاب
حیدرآباد ۔12 جنوری (سیاست نیوز ) ریاستی وزیرانفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی و پنچایت راج کے تارک راما رائو نے مجوزہ بلدی انتخابات میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی کامیابی کو یقینی قراردیتے ہوئے کہاکہ پچھلے ساٹھ سالوں میں شہر حیدرآباد کے عوام کانگریس ‘ تلگودیشم اور مقامی جماعتوں کو آزما چکے ہیں اب باری ہے ٹی آر ایس پارٹی کی جس نے ریاست تلنگانہ کی باگ ڈور سنبھالنے کے اندرون اٹھارہ ماہ نئی ریاست تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر پہنچانے کاکام کیاہے ۔ تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کے دوران کے ٹی راما رائو نے حیدرآباد کو ترقی یافتہ شہر بنانے کے دعویداروں کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ریاست حیدرآباد دکن کے انڈین یونین میںشامل ہونے سے قبل ہی شہر حیدرآباد کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میںچوتھے نمبر پر تھا اور یہ ترقی کے دعویدار وں نے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے سوائے ہائی ٹیک سٹی کے حیدرآباد کے لئے کچھ او رنہیں کیا۔انہوںنے مزیدکہاکہ کاکتیہ کے بعد قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں نے حیدرآباد کو بے مثال ترقی یافتہ شہر بنانے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ کے ٹی راما رائو نے کہاکہ ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں شامل ہونے کے بعد مذہبی رواداری ‘ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ‘ آپسی بھائی چارے کے قومی سطح پر فروغ کے لئے مہاتماگاندھی نے حیدرآباد کی کئی مرتبہ مثال پیش کی تھی ۔وزیرموصوف نے پچھلے پچاس سالوں میںحیدرآباد کو آلودگی کا شکار بنانے کا بھی غیر علاقائی حکمرانو ں پر الزام عائدکیا انہوں نے کہاکہ ترقی کے دعویداروں نے پینے کے صاف پانی کے لئے تیار کئے گئے ذخیرہ آب حسین ساگر کو آلودگی کا مرکز بنادیا۔ کے ٹی راما رائو نے کہاکہ تالابوں جھیلوں پر مشتمل شہر حیدرآباد کو تباہی کے دہانے پر پہنچنے والے خود کو حیدرآباد کی ترقی کا دعویدار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حسین ساگر کے بشمول پینے کے صا ف پانی کے لئے تیار کی گئی موسیٰ ندی کو گندے نالے میں تبدیل کردیا گیا اور عظیم موسیٰ ندی کو صنعتی کارخانوں کے فاضل پانی کی آماجگاہ میںتبدیل کرتے ہوئے موسی ندی کی آن بان اور شان کو سابق حکمرانوں نے تباہ کیاہے۔ کے ٹی راما رائو نے کہاکہ قدیم ریاست حیدرآباد کے دور سے ہی یہا ں پر بین ریاستی تہذیب اور مذہبی روادری ایک عام بات تھی اور اس کی مثال پارسی گٹہ اور سیندھی کالونی ہے جو آج نہیںبلکہ ریاست حیدرآباد کے دور میں قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے شہر حیدرآباد کو پوری ریاست کا سب سے بڑی آبادی والا شہر قراردیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی آبادی 3.6کروڑ ہے جس میں سے ایک کروڑ لوگ صرف شہر حیدرآباد میںآباد ہیںجن کا تحفظ‘ ترقی ‘ فلاح وبہبود کی ذمہ داری ریاست میںبرسراقتدار حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔کے ٹی راما رائونے کہاکہ اندرون اٹھارہ ماہ حکومت تلنگانہ نے اسی غرض سے ترقیاتی کاموں کی بنیاد رکھی اور کامیاب بھی رہی ۔ کے ٹی راما رائو نے کہاکہ شہر حیدرآباد کی عوام کو بلاوقفہ برقی کی سربراہی کا جو ہم بے بیڑہ اٹھایاتھا اس کو پورا کیا اور کئی سالوں سے تعطل کاشکار برقی او رآبرسانی کے بقایہ جات کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے معاشی طور پر پسماندہ شہریوں کو راحت پہنچانے کا کام کیاہے اس کے علاوہ اندرون اٹھارہ ماہ حیدرآباد میںگوگل‘ امیزان اور وائبر جیسی بین الاقوامی کمپنیو ں کو قائم کرنے کاکارنامہ انجام دیا ہے جو تعلیم یافتہ مگر بے روزگاری کا شکار حیدرآبادیوں کو راحت پہنچانے کاکام ہے۔کے ٹی راما رائونے ہمارا کہا آئندہ کا اقدام مشن باگیرتہ او رمشن کاکتیہ کے ذریعہ ہر گھر میں نل کے ذریعہ پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گھر گھر پانی کے لئے حکومت تلنگانہ نے پہل کے طور پرپرانے شہر کے کئی مقامات پر واٹرریزوائر بھی تعمیرکئے ہیںاور مزید واٹر ریزوائر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ وافر مقدار میں حیدرآبادیوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیاجاسکے۔ کے ٹی راما رائونے قدیم حیدرآباد کی تاریخ کو دہراتے ہوئے کہاکہ شہر حیدرآباد کا شمار سر سبز وشاداب شہروں میںتھا مگر سابق کے ریاستی او ر شہری انتظامیہ کی غفلت او رکوتاہی کے سبب شہر حیدرآباد میںفضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے شروع کئے گئے حکومت تلنگانہ کے ہریتا ہرم پروگرام کا بھی اس موقع پر ذکر کیاجس کے ذریعہ شہر حیدرآباد کے ماضی کو بحال کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ سرسبز وشاداب ترقی یافتہ شہر جہاں پر سکون اور شہریوں کی حفاظت کے موثر انتظامات کے ساتھ بنیاد ی سہولتوں سے لیس شہر حیدرآباد کے خواب کو پورا کرنا تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کی ذمہ داری ہے ۔بریکس شب کے تحت 16ایسے مقامات کی شہر حیدرآباد میںنشاندہی کی گئی ہے جہاں پر بارہ جنکشن قائم کئے جائیں گے جو حیدرآباد کی ٹریفک پر کنٹرول کرتے ہوئے شہریوں کو بہترین راستے فراہم کریں گے ۔اسکے علاوہ حیدرآبادیوں کے لئے مزیدسیاحتی مراکز قائم کئے جائیںگے اور بلاوقفہ برقی کی موثر سربراہی کے لئے شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف اکناف میں چودہ نئے برقی سب اسٹیشن ‘ تیس ماڈل مارکٹ‘ اسپورٹس کامپلکس‘ عصری سہولتوں سے لیس گریویارڈ‘قائم کرنے کا بھی انہوں نے اعلان کیا۔ پرانے شہر حیدرآباد کو نظر انداز کرنے کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی راما رائو نے کہا گریٹر حیدرآباد میںپینے کے پانی کی موثر سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے اور پرانے شہر کو درپیش آبی مسائل کے حل کے لئے حکومت تلنگانہ نے سب سے پہلے پرانے شہر میںآبی ریزوائر قائم کئے ہیں اور مزید ترقیاتی کاموں کے ذریعہ پرانے شہر کے ماضی کو بحال کرنے کابھی انہوں نے اعلان کیا۔ کے ٹی راما رائو نے پرانے شہر میںحیدرآباد میٹرو ریل کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ پرانے شہر میںمیٹرو ریل لائن میںتوسیع کے مطالبات کے پیش نظرایچ ایم آر کی جانب سے ایک نیا سروے شروع کیاگیا ہے اور بہت جلد سروے رپورٹ کی مناسبت سے پرانے شہر میںبھی میٹرو ریل کی تعمیر ی سرگرمیو ں کا آغاز ہوگا۔ انہو ں نے کہاکہ 72کیلو میٹرمیٹر و ریل لائن میں مزید تین کیلو میٹر اضافے کے لئے کام کیاجارہا ہے ۔رکن پارلیمنٹ باکا سمن ‘ رکن اسمبلی جیون ریڈی کے علاوہ دیوانپلی امر‘ ویرہٹ اور سرینواس ریڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT