Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / بلدی انتخابات کے بعد …

بلدی انتخابات کے بعد …

وعدوں کے بعد آئی ہے منزل عمل کی دوست
باتوں سے دل بہلنے کے دن اب گذر گئے
بلدی انتخابات کے بعد …
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات اور میئر و ڈپٹی میئر کے تقررات کے بعد منتخب کارپوریٹرس شہر کی ترقی کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ابتدائی مشق میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ادھر عوام بھی اپنی روزمرہ زندگی میں سرگرم ہوگئے۔ یہی وہ جمہوری عمل ہے جس کی مدد سے کارپوریٹرس منتخب ہوتے ہیں اور ان کے کاموں کے نتیجہ خیز ہونے کی امید رکھنے والے عوام کو آئندہ پانچ سال تک اپنے مسائل کی یکسوئی کی آس بندھ جاتی ہے۔ ایسے میں عوام اپنے روایتی سیاستدانوں کی کارکردگی پر دھیان دینا ترک کردیتے ہیں۔ شہریوں کی یہ دیرینہ آرزو ہے کہ وہ جب گھر سے کام پر نکلیں تو انہیں گڑھے اور کھڈوں سے پاک سڑکوں پر چلنا نصیب ہوجائے جگہ جگہ ٹریفک جام کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن ان شہریوں کی امید اس وقت چکناچور ہوجاتی ہے جب وہ خراب سڑکوں سے گذرتے ہیں۔ موریوں سے ابلتی غلاظت کا سامنا کرتے ہیں۔ راستہ میں سڑکوں پر تاریکی، آوارہ کتوں کی بہتات انہیں پریشان کرتے رہتی ہے۔ نئی بلدی ٹیم تشکیل دینے کے بعد بھی ان کی تکالیف جوں کی توں برقرار رہتی ہیں تو یہ ان کی بدنصیبی متصور کی جاتی ہے۔ سڑکوں کی مرمت کے نام پر بلدی ملازمین صرف برائے نام تارکول بھر کر چلے جاتے ہیں لیکن یہ سڑکیں بعدازاں جوں کی توں ابتری کا شکار ہوجاتی ہیں۔ حیدرآباد کو عالمی درجہ کا شہر بنانے چیف منسٹر کے خواب کی اس وقت تعبیر دیکھی جائے گی جب شہریوں کو تمام سہولتیں میسر ہوں گی۔ پتہ نہیں اب کارپوریٹرس کہاں چلے گئے ہیں۔ کوئی شک نہیں ایسے سیاسی رہنما ناپید ہوتے جارہے ہیں جنہوں نے عوامی خدمت کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔ اب کے لیڈروں میں جھوٹ بولنے کی مہارت دیکھی جارہی ہے۔ بلدی انتخابات میں کامیابی میں بھی یہی جھوٹ نے ساتھ دیا تھا۔ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کے 3 طریقے ہیں۔ پہلا مسلسل بولا جائے، دوسرا بڑے پیمانے پر بولا جائے اور تیسرا کسی ایسے شخص کی زبان سے کہلوایا جائے جس پر لوگوں کو یقین ہو۔ حیدرآباد میں برسوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ تبدیلی کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انتخابات کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ ووٹنگ مشنریز میں الٹ پھیر کی جارہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انتخابات کے جمہوری چہرہ کو مسخ کردیا جارہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے جس لیڈر کو اپنا مانتے ہیں اس کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس کے کاموں کو نہیں دیکھتے اور نہ ہی اس کا حساب کتاب رکھتے ہیں۔ جن لیڈروں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ حق پر نہیں لوگوں نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تو ان کی بھی ذمہ داری ہیکہ ان عوام کیلئے کام انجام دیں۔ حکومت نے شہر حیدرآباد کو ترقی دینے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس پر ابھی کام شروع ہونا باقی ہے تو سب سے پہلے شہر میں جاری میٹرو ریل پراجکٹس کے تعمیراتی کاموں کو فوری پورا کرے۔ ٹریفک کے بہاؤ کو آسان بنائے۔ مرکز نے ملک میں اسمارٹ سٹیز کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔ ریاستی سطح پر حکومت نے حیدرآباد کو گلوبل سٹی کا درجہ دینے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس گلوبل سٹی کے لئے جو تقاضے ہوتے ہیں انہیں پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی تلنگانہ حکومت نے ابتداء میں اسمارٹ سٹی کے طور پر حیدرآباد کے نام کو ترجیح دی تھی لیکن بعدازاں اس اسکیم سے حیدرآباد کا نام حذف کرایا گیا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا احساس ہے کہ مرکز کے اسمارٹ سٹی پراجکٹ کے تحت جو فنڈس حاصل ہوں گے وہ حیدرآباد شہر کی ضروریات کیلئے ناکافی ہوں گے۔ اس کیلئے چیف منسٹر نے مرکز سے خصوصی فنڈس دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب بلدی عہدیداروں کو نئے کارپوریٹرس کے ساتھ مل کر ایسے پراجکٹ تیار کرنے ہوں گے جس سے شہر حیدرآباد کو ترقی دینے کا منصوبہ پورا ہوسکے۔ اس سلسلہ میں جب تک مرکز ۔ ریاست کے درمیان تال میل نہ ہو اور فنڈس کی اجرائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو تو حیدرآباد کو عالمی درجہ کے شہر کی حیثیت سے ترقی دینے کی کوشش کامیاب ہوگی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے نئی دہلی کا دورہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور نئی ریاست تلنگانہ کے لئے نمائندگی کرتے ہوئے فنڈس کے علاوہ خصوصی پیاکیج دینے کا مطالبہ کیا۔ مرکز کو نئی ریاست کی ترقی خاص کر شہر حیدرآباد کو عالمی درجہ کا شہر بنانے ٹی آر ایس حکومت کے منصوبہ کو پورا کرنے کیلئے خاطرخواہ فنڈس جاری کرنے چاہئے۔ ریاستی حکومت کو بھی شہر کی ترقی کے حصول کا مؤثر منصوبہ بنا کر اس پر دیانتداری سے کام کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر ان سب پر کام ہوتا ہے تو شہر حیدرآباد واقعی عالمی درجہ کا شہر بن کر ابھرے گا۔ عمل پر مبنی منصوبے بنائے جائیں صرف منصوبوں اور محض باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT