Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / بلدی انتخابات

بلدی انتخابات

کیسا شیشے میں اتارا ہے مجھے
واہ یہ بازی گری اچھی تو ہے
بلدی انتخابات
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہونے کے ساتھ ہی انتخابی اتھاریٹی نے تمام پارٹی امیدواروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے انتخابی تشہیری مصارف کی تفصیلات پیش کریں۔ اپنے حلقوں میں مکانات، خانگی جائیدادوں، مذہبی مقامات کو تشہیری مواد چسپاں کرنے کیلئے استعمال نہ کریں۔ انتخابی اتھاریٹی کی ہدایات ہر انتخابات کے موقع پر دی جاتی ہیں لیکن اس پر دھیان کم ہی دیا جاتا ہے۔ دولت کی طاقت کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو مسترد کردینے کا رائے دہندوں کو مشورہ دیتے ہوئے ریاستی الیکشن اتھاریٹی نے یہ بھی کہا ہیکہ انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کیلئے ریاستی الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کرے گا۔ بلدیاتی انتخابی مہم دراصل عام انتخابات ہی کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ اس طرح کے انتخابات میں دولت کی طاقت کا مظاہرہ نئی بات نہیں ہے۔ اصل تشویش کی بات یہ ہیکہ جب گلیوں، محلوں، کالونیوں پر استوار بلدیاتی انتخابات میں بھی صرف پیسے ہی کے بل بوتے پر معرکہ آرائی ہونے لگی تو پھر ایسے انتخابی عمل میں غریب کیلئے جگہ کہاں تلاش کی جاسکے گی۔ پرانے شہر سے لیکر نئے شہر اور نئی آبادیوں تک انتخابی تشہیر اور مہم کا زور صرف دولت ہی ہو تو پھر رائے دہندوں کا فیصلہ کن ووٹ کس امیدوار کے حق میں ہونا چاہئے یہ ہر محلے کے ووٹرس کیلئے غور طلب ہے۔ پرانے شہر کی بستیاں مقامی جماعت کی سیاسی نشوونما کیلئے بہت زرخیز ہے۔ یہاں ایسے ایسے امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جنہوں نے سابق میں عوام کیلئے کوئی رتی برابر کا بھی کام نہیں کیا۔ پرانے شہر میں جس نوع کے سیاسی کلچر کی آبیاری کی گئی ہے اسی روایت پر امیدوار کے انتخاب سے قبل ہی پارٹی کو کامیابی کا یقین ہوجاتا ہے جہاں تک ٹکٹ دینے کا مسئلہ ہے اس مرتبہ ہر پارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے لمحہ آخر تک رازداری سے کام لیا جس کی وجہ پارٹی میں بغاوت یا ناراضگیوں کو روکنا ہوسکتی ہے۔ بلدی انتخابات میں جن لوگوں کو پارٹی ٹکٹ نہیں ملا اب ان میں سے بیشتر آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہوں گے۔ ایسے آزاد امیدوار ظاہر و باطن میں سیاسی دیانتدار کا رکن ہوتے ہیں لہٰذا رائے ہندوں کو ان آزاد امیدواروں کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات بھی اب غریبوں کی دسترس سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کے کئی قائدین نے ٹکٹ نہ ملنے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پارٹی قیادت پر یہی الزام عائد کیا کہ اس نے دولت کی طاقت کا مظاہرہ کرنے والوں کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے۔ تلنگانہ کیلئے جدوجہد کرنے اور ٹی آر ایس کو طاقتور بنانے والے پارٹی کارکنوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ جب کسی پارٹی میں وفادار کارکنوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی برعکس ہوتے ہیں۔ قیادت کے نام پر جب کوئی پارٹی صدر اپنی من مانی کرتے ہیں تو سیاسی اور دیانتدار کارکن اس صورتحال سے بیزاری کی حد تک بدظن ہوجاتے ہیں۔ وہ خود کو اس ماحول کیلئے غیرموزوں سمجھ کر پارٹی کے خلاف کام کرنے لگتے ہیں۔ انتخابات کیلئے جب ٹکٹ کی تقسیم کا مرحلہ ہوتا ہے تو یہاں پارٹی قیادت کی دیانتداری اور سمجھداری کا بھی امتحان ہوتا ہے اب عوام کے پاس جو امیدوار آئیں گے وہ پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے اولے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اصل پارٹی کارکنوں کو ناراض کیا ہے۔ دولت کی طاقت سے خریدے گئے ٹکٹ اور انتخابی میدان میں معرکہ آرائی کرنے والوں کو صرف رائے دہندے ہی سبق سکھا سکتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کی کوشش کرنے والا سب کچھ جانتا ہے کہ اس نے کامیابی کیلئے کیا کیا حربے اختیار کئے ہیں۔ اصل ذمہ داری رائے دہندوں کی ہے کہ انہیں کیا موقف اختیار کرنا ہے۔ بلدی مسائل کی یکسوئی کے لئے ایسے امیدواروں کو ووٹ دینا ہے جوان کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا پھر انہیں منتخب کرنا ہے جو سرمایہ اور دولت لگا کر اس کا دوگنا، سہ گنا منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عوام کے ووٹ لینے کے بعد یہ لوگ دھنیاپی کر سوئے رہتے ہیں اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی جبکہ عوام بلدی مسائل سے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی دوچار ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT