Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / بلقیس بانو کے خاطیوں کو سزائے موت دینے سے عدالت کا انکار

بلقیس بانو کے خاطیوں کو سزائے موت دینے سے عدالت کا انکار

گجرات فسادات کی اجتماعی عصمت ریزی کا شکار مسلم خاتون انصاف سے محروم، 12 ملزمین کی سزائے عمر قید برقرار، 7 کی برات کالعدم

کانگریس اور انسانی حقوق کارکنوں کا فیصلہ کا خیرمقدم

ممبئی ۔ 4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بمبئی ہائیکورٹ نے آج 2002ء کے گجرات مسلم کش فسادات کے دوران بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کیس میں 3 ملزمین کو سزائے موت دینے سے انکار کیا البتہ 12 ملزمین کی عمر قید کی سزاء برقرار رکھی جبکہ پولیس ملازمین اور ڈاکٹرس کے بشمول اس کیس سے برات حاصل کرنے والے 7 افراد کی رہائی کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے بالقیس بانو عصمت ریزی کے 3 ملزمین کیلئے سزائے موت دینے سی پی آئی کی داخل کردہ اپیل کو مسترد کردیا۔ بلقیس کی مارچ 2002ء میں اس وقت اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی جب وہ حاملہ تھی۔ اس تعلق سے سچائی یہ ہیکہ ایک خاتون کی حیثیت سے اس کے حقوق اور ماں کے رتبہ کی نہایت ہی بہیمانہ طریقہ سے خلاف ورزی کی گئی تھی۔ البتہ عدالت کے اس فیصلہ نے سچائی کے برقرار رہنے کا ایقان قوی ہوگیا ہے اور عدلیہ پھر اس خاتون نے جو ایقان رکھا تھا وہ بھی برقرار ہے۔ گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ کے فوری بعد گجرات میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ مسلم کش فسادات میں بلقیس بانو کے خاندان کے 7 ارکان کا بیدردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ جسٹس وی کے تھیلارمانی اور مرید ولابھٹکر نے کہا کہ 11 ملزمین کے خلاف (جن میں ایک کی موت واقع ہوئی ہے) داخل کردہ اپیل کو مسترد کردیا گیا۔ البتہ ان کے جرم اور سزاء کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ اپیل اس کیس میں رہا کردہ 7 افراد کے خلاف استغاثہ کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے ان 7 افراد کی رہائی کو کالعدم قرار دیا۔ ان 7 ملزمین میں پانچ پولیس ملازمین اور دو ڈاکٹرس شامل ہیں۔ انہیں تعزیرات ہند کی دفعہ 218 اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور شواہد سنانے کی دفعہ 201 کے تحت ماخوذ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ہم جیل میں گذارے گئے دنوں پر غورکریں گے 7 افراد کو جیل میں رکھا گیا تھا ان کے ایام محروسی کو بھی شمار کیا جائے گا البتہ ہم ان پر جرمانہ عائد کریں گے۔ ایک شخص کو جو کیس میں ماخوذ ہے آٹھ ہفتوں کے اندر 20,000 روپئے جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔ جن پولیس ملازمین اور ڈاکٹرس کو ماخوذ کیا گیا تھا ان میں نرپت سنگھ، ادریس عبدالسعید، بیکابھائی پٹیل، رام سنگھ بہومار، سوم بھائی گوری، ارون کمار پرساد (ڈاکٹر) اور سنگیت کمار پرساد (ڈاکٹر) شامل ہیں۔ اب اس کیس میں 18 افراد کو ماخوذ کیا گیا۔

میڈیا کو دیئے گئے بیان میں بلقیس بانو نے کہا کہ ایک انسان، ایک شہری، ایک خاتون اور ایک ماں کی حیثیت سے میرے حقوق کو اس دن نہایت ہی بے رحمی، بیدردی اور بہیمانہ طریقہ سے پامال کیا گیا تھا لیکن مجھے ہمارے ملک کے جمہوری اداروں پر بھروسہ تھا اب میرا خاندان اور مجھے محسوس ہورہا ہیکہ ہم پھر سے اپنی زندگیوں کو آزادانہ اور بے خوف ہوکر گذار سکتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ریاستی حکومت اور اس کے عہدیداروں نے پورے مسلم طبقے کی زندگی کو تباہ کرنے والے مجرموں کا تحفظ کیا اور ان کی ہمت افزائی کی لیکن آج یہ لوگ ثبوت کو مٹانے کی کوشش کے الزام میں ماخوذ ہوچکے ہیں۔ شہریوں کے تحفظ اور انصاف کا درجہ بلند ہوا ہے۔ عدالت نے گزشتہ سال اس کیس کے 11 ملزمین کی جانب سے داخل کردہ اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ احمدآباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب اپوزیشن پارٹی کانگریس اور انسانی حقوق کارکنوں نے بامبے ہائیکورٹ کے بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ میں فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ 2002 ء گجرات فسادات کے تمام متاثرین کو انصاف حاصل ہونا چاہئے۔ تیستا سیتلواد نے تحت کی عدالت کی سزا برقرار رکھنے اور باقی 5 افراد کی برات کالعدم قرار دینے کا خیرمقدم کیا۔ اپوزیشن پارٹی گجرات کی کانگریس نے کہاکہ تمام متاثرین کو انصاف ملنا چاہئے۔ بلقیس بانو جو 5 ماہ کی حاملہ تھی، اجتماعی عصمت ریزی کا شکار بنی جبکہ اُس کے خاندان 7 افراد کو ہلاک کردیا گیا۔ دیگر 6 بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT