Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں حکومت پاکستان کے مظالم :مودی

بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں حکومت پاکستان کے مظالم :مودی

٭     نوجوان تشدد کی راہ ترک کریں، کشمیر کی تازہ صورتحال پر تبصرہ سے گریز
٭     سماجی انصاف کی وکالت ،70 ویں یوم آزادی تقریب ۔ لال قلعہ کی فصیل سے خطاب

نئی دہلی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آج واضح طور پر کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے  آگے نہیں جھکے گا۔انہوں نے نوجوانوں سے ‘ جنہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے ‘ کہا کہ وہ قومی دھارے میںشامل ہوجائیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام پر پاکستان کے مظالم کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ اس پر وہاں کے عوام نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ مودی نے اپنی تقریر میں وادی کشمیر کے حالات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جہاں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے تشدد اور ہنگاموں کا سلسلہ چل رہا ہے اور ایک  ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو نافذ ہے ۔ مودی نے پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہندوستان میں ہلاکتوں پر پاکستان میں جشن منایا جاتا ہے ۔ مودی کا یہ ریمارک برہان وانی کی ہلاکت کا بالواسطہ تذکرہ تھا جسے پاکستان میں شہید قرار دیا گیا ۔ یوم آزادی کے موقع پر سخت ترین سکیوریٹی میں لال قلعہ کی فصیل سے 92 منٹ کے خطاب میں نریندر مودی نے کہا وہ کچھ لوگوں سے اظہار تشکر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ بلوچستان ‘ گلگت اور مقبوضہ کشمیر کے ہیں جنہوں نے مجھ سے اظہار تشکر کیا تھا ۔ جس طرح سے ان افراد نے اظہار یگانگت کیا تھا میں بھی ان سے اسی طرح سے اظہار یگانگت کرتا ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وزیر اعظم کی یوم آزادی کی تقریر میں پاکستان کے کنٹرول والے شورش زدہ علاقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جبکہ مسئلہ کشمیر پر ایک کل جماعتی اجلاس میں مودی نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کو آشکار کریں کہ ہمارا پڑوسی ملک کس طرح سے بلوچستان میں مظالم ڈھا رہا ہے اور یہی حال کشمیر کے ان حصوں کا بھی جو اس کے کنٹرول میں ہیں۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ملکوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے سلسلہ میںہندوستان اور پاکستان کے رویہ کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ جب دو سال قبل پشاور کے ایک اسکول میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں بچوں کی موت واقع ہوئی تھی ہماری پارلیمنٹ میں آنسو بہائے گئے تھے ۔ ہندوستانی بچے صدمہ کا شکار ہوگئے تھے ۔ یہ ہماری انسانیت کی مثال ہے ۔ تاہم دوسری جانب بھی دیکھئے جہاں دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان دہشت گردی اور تشدد کے آگے جھکے گا نہیں وزیر اعظم نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں۔ یہ ریمارک جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے پیام سمجھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان نوجوانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے ۔ واپس آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ اپنے والدین کی امیدوں کو پورا کریں۔ ایک پرامن زندگی گذاریں۔ تشدد کا راستہ کسی کیلئے بھی فائدہ مند نہیں ہوسکتا ۔ اپنے روایتی آدھے آستینوں والے کرتے اور راجستھان پگڑی میں ملبوس مودی نے اپنی تقریر کے بیشتر حصے میں اپنی حکومت کے رپورٹ کارڈ کو اجاگر کرنے کی کوشش ہی کی ۔ انہوں نے مجاہدین آزادی کے وظیفہ میں 20 فیصد اضافہ کا اعلان کیا اور کہا کہ جو خاندان خط غربت سے نچلی زندگی گذار رہے ہیں ان کے ایک لاکھ روپئے تک کے طبی اخراجات حکومت برداشت کریگی ۔ مودی نے دلتوں اور مسلمانوں پر حملوں کے تناظر میں کہا کہ سماجی برائیوں کو سختی سے اور حساسیت سے نمٹے جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سماجی انصاف نہ ہو تو سماج کی بقا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اچھائی پر چلنے والے ہر فرد سے مساوی سلوک کرنا چاہئے اور کوئی امتیاز نہیں برتا جانا چاہئے ۔ کسی سے بھی اس کی ذات کی بنیاد پر ہتک نہیں ہونی چاہئے ۔ مودی نے کہا کہ ’ ہوتا ہے ۔ چلتا ہے ‘ کا طریقہ کار سماجی مسائل سے نمٹنے میں کارآمد نہیں ہوسکتا ۔ یہ برائیاں صدیوں قدیم ہیںاور ان سے بہت سختی اور حساسیت کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں اور سماج کو سماج کو اس تنازعہ سے باہر نکالنے میں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT