Tuesday , October 17 2017
Home / سیاسیات / بلوچستان کی بات کرنے والے مودی پہلے آدمی نہیں

بلوچستان کی بات کرنے والے مودی پہلے آدمی نہیں

یو پی اے دوراقتدار میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا تھا : کانگریس
نئی دہلی ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر اظہارتشویش کیا ہے۔ کانگریس نے آج پرزور انداز میں کہا کہ پارٹی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے مسلسل اس بارے میں بات چیت کی تھی اور تشدد کے عروج اور پاکستان کی بھاری فوجی کارروائی پر اظہارتشویش کیا تھا۔ کانگریس اور یو پی اے حکومت نے انسانی حقوق کی بلوچستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں خلاف ورزیوں کی کئی بار ماضی میں مذمت کی ہے۔ پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ پہلی بار یو پی اے نے 27 ڈسمبر 2005ء کو اس بارے میں بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے 2 مارچ 2006ء کو پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح طور پر بلوچستان میں تشدد کے عروج اور زبردست فوجی کارروائی بشمول لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں کی حکومت پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے عوام کو کچلنے کیلئے استعمال کی مذمت کی تھی۔ قبل ازیں 50 بلوچ افراد پاکستان کی فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ غیرملکی عروج کی وزارت نے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت پاکستان صبروتحمل اختیار کرے گی اور پرامن تبادلہ خیال کے ذریعہ بلوچ عوام کے مسائل کی یکسوئی کی جائے گی۔ ان یہ بیان کانگریس کی جانب سے اس مسئلہ پر مختلف بیانات کے منظرعام پر آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ قبل ازیں کل ہند کانگریس نے سینئر قائد سلمان خورشید کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی خطاب میں بلوچستان کا تذکرہ کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ کانگریس نے کہا تھا کہ یہ سلمان خورشید کا شخصی تاثر ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ اگست 2006ء میں یو پی اے میں نامور بلوچ قائد نواب اکبر خان بگتی کی ہلاکت کو کانگریس نے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں بلوچستان ہمیشہ 16 جولائی 2009ء کو شرم الشیخ کے ساتھ موضوع گفتگو تھا جبکہ پاکستان نے پہلی بار 26 نومبر کے ممبئی دہشت گرد حملہ میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT