Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / بلڈرس و ڈیولپرس کو فلیٹس کی تعمیر و حوالگی میں تاخیر نہیں کرسکتے

بلڈرس و ڈیولپرس کو فلیٹس کی تعمیر و حوالگی میں تاخیر نہیں کرسکتے

ممبئی کے بلڈرس کیخلاف مقدمہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
حیدرآباد۔20اکٹوبر (سیاست نیوز) بلڈرس معینہ مدت میں فلیٹس کی حوالگی کو یقینی بنائیں۔ سپریم کورٹ نے ممبئی کے ایک بلڈر کی جانب سے فلیٹس کی تعمیر و حوالگی میں ہونے والی تاخیر کے مقدمہ میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلڈرس و ڈیولپرس فلیٹس کی حوالگی میں تاخیر نہیں کر سکتے ۔ تین ججس پر مشتمل بنچ کی جانب سے سنائے گئے اس فیصلہ کے مطابق اگر بلڈرس و ڈیولپرس معینہ وقت میں فلیٹس حوالے نہیں کرتے ہیں تو انہیں خریدار کی رقم واپس کرنی ہوگی۔ جسٹس دیپک مصرا‘ جسٹس امیتابھ راؤ اور جسٹس اے ایم کانویلکر پر مشتمل بنچ نے یونی ٹیک ریسڈینشل ریسارٹ لمیٹیڈ کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنے 39خریداروں کو ان کی جملہ 17کروڑ کی رقومات واپس دیں ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بلڈرس یا ڈیولپرس کسی بھی وجہ سے فلیٹس کی حوالگی میں تاخیر نہیں کرسکتے بلکہ انہیں معاہدہ کے مطابق مدت کے دوران ہی فلیٹس حوالے کرنے چاہئے یا پھر خریداروں کو رقومات کی واپسی یقینی بنانی ہوگی۔ فلیٹس کے خریدار اکثر اس بات سے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ بلڈر کو پیسے دے کر پھنس گئے ہیں اور اب انہیں بحالت مجبوری بلڈر کی جانب سے فلیٹ کی حوالگی اور تعمیرمکمل کئے جانے تک انتظار کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے مطابق اب خریداروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر معینہ مدت میں فلیٹس حوالے نہیں کئے جاتے ہیں تو بلڈر کو جملہ رقم یکمشت واپس کرنی ہوگی۔مذکورہ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے 39خریداروں کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کے فریقین کو 17کروڑ کی رقم تقسیم کرنے کی ہدایت دی ہے جو کہ یونی ٹیک کمپنی نے عدالت کی ہدایت پر عدالت میں جمع کروائی تھی۔17اگسٹ 2016کو عدالت نے یونی ٹیک کمپنی کو ہدایت دی تھی کہ وہ 15کروڑ روپئے عدالت میں جمع کروائے اس فیصلہ کے بعد مزید 2کروڑ کمپنی کی جانب سے جمع کروائے جائیں گے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد اب ملک بھر کے بلڈرس و ڈیولپرس معینہ مدت میں تعمیرات کی تکمیل پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں کیونکہ اس فیصلہ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا جوکھم مول لینا نہیں چاہے گا۔

TOPPOPULARRECENT