Thursday , August 24 2017
Home / اداریہ / بلی تھیلے سے باہر آگئی

بلی تھیلے سے باہر آگئی

بنے ہیں اہل ہوس ‘ مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں ‘ کس سے منصفی چاہیں
بلی تھیلے سے باہر آگئی
بالآخر وہی ہوا جس کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ مالیگاوں میں 2008 میں ہوئے بم دھماکہ کے مقدمہ میں اصل ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دوسرے 5 ملزمین کو این آئی اے نے کلین چٹ دیدی ہے اور ان کے خلاف الزامات و مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ۔لیفٹننٹ کرنل پروہت اور دوسرے 9 ملزمین کے خلاف مکوکا کے تحت مقدمات کو بھی ختم کردیا گیا ہے اور معمولی دفعات کے تحت مقدمات کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ اس تعلق سے مسلسل اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ مرکز کی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ہندو تخریب کار گروپس کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے مقدمات میں نرمی پیدا کر رہی ہے اور کچھ ملزمین کے خلاف مقدمات سے دستبرداری بھی اختیار کی جائیگی ۔ اپوزیشن جماعتوں اور حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو شبہات تھے کہ ان کارکنوں کے خلاف مقدمات کو ختم کیا جائیگا ۔ بی جے پی کے قائدین اور حکومت کے نمائندے مسلسل تردید کر رہے تھے کہ ان مقدمات میں کوئی نرمی نہیں برتی جا رہی ہے لیکن ایسا کہتے ہوئے ملک و قوم کو گمراہ کیا گیا ہے اور مقدمات سے دستبرداری اور دوسرے ملزمین کے خلاف مقدمات میں نرمی در اصل قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے سے کم نہیں ہے ۔ مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی یہ قیاس تقویت اختیار کرتا جا رہا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے ۔ اس سلسلہ میں این آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل کی معیاد میں بھی توسیع کی گئی تھی ۔ خود این آئی اے کی وکیل نے سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ ایجنسی کے اعلی حکام انہیں ہندو دہشت گردوں کے خلاف مقدمات میں نرمی پیدا کرنے کیلئے دباؤ کا سامنا ہے ۔ اس الزام کے بعد انہوں نے اس مقدمہ سے علیحدگی بھی اختیار کرلی تھی ۔ حکومت یا این آئی اے نے اس وقت بھی یہ دعوی کیا تھا کہ ایسا نہیں کیا جا رہا ہے لیکن بالآخر آج عدالت میں این آئی اے نے چارچ شیٹ داخل کردی جس میں پرگیہ ٹھاکر و دوسروں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ اب بھی خصوصی پبلک پراسکیوٹر کو بھی اس سے لا علم رکھا گیا ہے ۔ اویناش راسل نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلینے کا اشارہ دیا ہے ۔
سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ہو یا پھر دوسرے ملزمین ہو ان سب کے خلاف ممبئی اے ٹی ایس نے جامع تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا تھا ۔ اے ٹی ایس کے اس وقت کے جوائنٹ کمشنر ہیمنت کرکرے نے ہندو دہشت گردوں کے رول کو اس میں بے نقاب کیا تھا اور انہیں گرفتار کرکے مقدمات درج کئے تھے ۔ ابھی وہ انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کی کوشش ہی میں تھے کہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے دوران وہ اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ ہیمنت کرکرے کی موت کے بعد سے ہی اس مقدمہ میں پیشرفت سست رفتار تھی اور نت نئے انداز سے اس میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی تھیں۔ یہ اندیشے بتدریج بڑھتے جا رہے تھے کہ ان ملزمین کے خلاف مقدمات میں نرمی پیدا کی جائیگی ۔ سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ بارہا یہ کہتے رہے کہ بی جے پی حکومت سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کو ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور جن کے خلاف مقدمات سے واپسی ممکن نہیں ہے ان کے مقدمات میں نرمی پیدا کی جائیگی ۔ این آئی اے کے موجودہ ڈائرکٹر کی معیاد میں توسیع کے وقت بھی اسی خیال کا اظہار کیا گیا تھا اور بالآخر وہی ہوا جس کے اندیشے تقریبا ہر گوشے سے ظاہر کئے جا رہے تھے ۔
اس سنگین مقدمہ میں اس طرح مقدمات سے دستبرداری سے یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ یہ سب کچھ محض سیاسی مداخلتوں کا نتیجہ ہے ۔ جس وقت یہ مقدمات درج ہوئے اور ہندو دہشت گردوں کا رول بے نقاب ہوا تھا اسی وقت سے یہ واضح ہونے لگا تھا کہ ان سب کارکنوں کے سنگھ پریوار یا اس کی ملحقہ تنظیموں سے روابط اور تعلقات تھے ۔ کچھ ملزمین تو باضابطہ طور پر سنگھ سے وابستہ رہ چکے تھے ۔ جب ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے اسی وقت سے سنگھ اور اس کی ملحقہ تنظیمیں بے چینی کا شکار تھیں اور وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھیں۔ جب نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی حکومت قائم ہوگئی تو ان کیلئے حالات سازگار ہوگئے اور بتدریج منصوبہ بندی کے ذریعہ ان کے خلاف مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ۔محض سیاسی مقصد براری یا سنگھ کے امیج کو صاف کرنے کے مقصد سے یہ مقدمات واپس لئے گئے ہیں اور ایسا کرنا در اصل ملک کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے ۔

TOPPOPULARRECENT