Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بل کی ادائیگی نہیں تو پانی بھی نہیں

بل کی ادائیگی نہیں تو پانی بھی نہیں

آبرسانی کے 790 کروڑ روپئے کے بقایہ جات وصول طلب
حیدرآباد 24 جولائی (سیاست نیوز) جو پانی کا بل نہیں بھریں گے انھیں پانی نہیں ملے گا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہاکہ ہر واٹر سپلائی کنکشن پر لازم ہے کہ ورکنگ میٹر موجود ہو اور بل وصول کیا جائے۔ اگر کہیں میٹر میں خرابی ہے تو میٹر درست کیا جائے یا تبدیل کیا جائے۔ واٹر بورڈ کو ہر روز 120 ملین گیالن پانی کی سربراہی پر مالیہ کا نقصان ہورہا ہے کیوں کہ سربراہ کئے جارہے اس پانی پر صارفین سے بل وصول نہیں ہورہے ہیں۔ اس طرح واٹر بورڈ بھاری خسارہ میں ہے اور وہ خسارہ کی پابجائی اور آمدنی کے لئے کوشش کررہا ہے۔ واٹر بورڈ کو 790 کروڑ روپئے کے بلس وصول شدنی ہیں۔ بڑی تعداد بل ادا نہ کرنے والے اُن آبرسانی کنکشن کی ہے جو میٹر زیر مرمت ہے کا بہانہ کرتے ہیں۔ جب بھی واٹر بورڈ اسٹاف گھروں پر پہونچتا ہے تو صارفین دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔ گھروں پر قفل لگے ہوتے ہیں۔ نتیجہ میں اسٹاف میٹر تک نہیں پہونچ سکتا ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے واٹر بورڈ عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ میں آبرسانی اور سیوریج کے مسائل کا جائزہ لیا اور ہدایت دی کہ پاک و صاف پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔ آلودگی کی کسی بھی شکایت کی فوری یکسوئی کی جائے۔ واٹر بورڈ یکم اگسٹ سے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ تمام صارفین کے پاس واٹر میٹرس موجود ہوں خصوصی مہم شروع کرے گا۔ جائزہ اجلاس کے بعد وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے یہ اعلان کیا۔ واٹر بورڈ کے ریکارڈس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واٹر کنکشن 8 لاکھ 70 ہزار ہیں اور صرف ایک لاکھ 60 ہزار صارفین کے پاس میٹر موجود ہیں۔ اس طرح واٹر بورڈ کو ہر ماہ 16 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے۔ واٹر بورڈ کے مالی موقف کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔ ہر کنکشن کے لئے واٹر میٹر کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT