Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بمسیٹ کا اہتمام کرنے وزیر صحت سے نمائندگی

بمسیٹ کا اہتمام کرنے وزیر صحت سے نمائندگی

بی یو ایم ایس میں داخلوں کا مسئلہ

آئندہ چند یوم میں قطعی فیصلہ ، ڈاکٹر سی لکشما ریڈی کا تیقن
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : دونوں ریاستوں میں نیٹ میں حاصل شدہ نمبرات اور رینکس کے لحاظ سے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلے دئیے جاچکے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ گریجویشن کورس کے داخلہ بھی بند ہوچکے ہیں ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بی یو ایم ایس میں داخلوں کے لیے جاریہ سال اب تک بمسیٹ کا انعقاد عمل میں نہیں لایا گیا جس سے بی یو ایم ایس میں داخلہ کے خواہاں ہزاروں طلباء وطالبات اور اولیائے طلباء میں بے چینی پائی جاتی ہے اور طلبہ کا مستقبل خطرہ میں پڑ گیا ہے ۔ سیاست بی یو ایم ایس کوچنگ کے انچارج سید خالد محی الدین اسد کے مطابق دفتر سیاست میں ہر روز بی یو ایم ایس میں داخلہ کے خواہاں طلبہ اور اولیائے طلبہ کے بے شمار فون کالس وصول ہورہے ہیں ۔ ان کی تشویش اور بے چینی کو دیکھتے ہوئے آج ڈاکٹر پی محمد حسن احمد رکن سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن اور ڈاکٹر عبدالرحمن خان سکریٹری جنرل اوما کی قیادت میں طلبہ اور اولیائے طلبہ کے ایک وفد نے ریاستی وزیر صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سی لکشما ریڈی سے شخصی طور پر ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی ۔ اور بتایا کہ بی یو ایم ایس داخلہ اعلامیہ کی عدم اجرائی پر امیدوار پریشان ہیں ۔ قواعد و ضوابط کے مطابق 31 اکٹوبر سے پہلے بی یو ایم ایس میں داخلوں کا عمل مکمل ہونا ضروری ہے لیکن تاحال کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ۔ طلبہ اور اولیائے طلبہ کی جانب سے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ تلنگانہ اور ڈاکٹر این ٹی آر ہیلتھ یونیورسٹی وجئے واڑہ کے وائس چانسلروں سے بھی نمائندگی کی گئی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر عبدالرحمن خاں اور ڈاکٹر پی محمد حسن احمد نے مزید بتایا کہ وزارت آیوش نے ہندوستانی طریقہ طب کے کورس میں داخلوں کے لیے ایک سال نیٹ سے استثنیٰ دیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ سال سے نیٹ اردو میں بھی لکھنے کی اجازت ہوگی اور اس میں حاصل کردہ نمبرات اور درجہ کی بنیاد پر بی یو ایم ایس میں داخلے دئیے جائیں گے لیکن جاریہ سال مذکورہ دونوں یونیورسٹیز سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ۔ واضح رہے کہ ماضی میں ہر سال این ٹی آر ہیلتھ یونیورسٹی بمسیٹ کا اہتمام کیا کرتی تھی اور جاریہ سال کالوجی نارائن راؤ ہیلتھ یونیورسٹی بمسیٹ منعقد کرنے والی تھی ۔ ڈاکٹر پی محمد حسن کے مطابق آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے وزرائے صحت سے بھی بار بار اس ضمن میں نمائندگی کی گئی اس مرتبہ تلنگانہ کے وزیر صحت نے نمائندگی وصول کرتے ہی کالوجی نارائن راؤ ہیلتھ یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کو فوری فون کرتے ہوئے کل ان کے اجلاس پر موجود رہنے اور اس مسئلہ کا حل نکالنے کی ہدایت دی ۔ امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہوسکتا ہے کہ نیٹ میں اہل قرار پائے طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا یا پھر بمسیٹ کے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا ۔ سید خالد محی الدین اسد نے بتایا کہ اس پر طلباء وطالبات اور اولیائے نے وزیر صحت سے کہا کہ پہلے اگر اعلامیہ جاری کیا جاتا تو ہمارے بچے نیٹ میں شرکت کرتے مگر یونیورسٹیز سے ایسا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT