Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / بنارس ہندو یونیورسٹی میں تشدد ، پولیس لاٹھی چارج ، ہوائی فائرنگ ،طلبہ اور صحافی زخمی

بنارس ہندو یونیورسٹی میں تشدد ، پولیس لاٹھی چارج ، ہوائی فائرنگ ،طلبہ اور صحافی زخمی

Varanasi: Students and police in a standoff in Varanasi late Saturday night. Female students at the prestigious University were protesting against the administration's alleged victim-shaming after one of them reported an incident of molestation on Thursday. PTI Photo (PTI9_24_2017_000107B)

کیمپس میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعہ کے خلاف احتجاج تشدد میں تبدیل ،وارناسی میں تمام کالجس اور یونیورسٹیز کو /2 اکٹوبر تک تعطیل

وارناسی ؍ لکھنؤ۔ 24 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں پولیس کی جانب سے کی گئی لاٹھی چارج میں خواتین اور دو صحافیوں کے بشمول کئی طلباء زخمی ہوگئے۔ لڑکیوں سے مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کے واقعہ کے خلاف کیا جانے والا احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا۔ تشدد کے پیش نظر یونیورسٹی میں کل سے 2 اکتوبر تک تعطیلات کا اعلان کردیا گیا جبکہ یہاں پر 28 ستمبر سے باقاعدہ تعطیلات شروع ہورہی تھیں۔ چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے آج اس واقعہ سے متعلق ڈیویژنل کمشنر سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے بشمول مختلف سیاسی پارٹیوں نے حکومت پر تنقید کی اور پولیس کاروائی کی مذمت کی۔ پولیس لاٹھی چارج میں خواتین اور دو صحافیوں کے بشمول کئی طلباء زخمی ہوگئے اور بعض پولیس ملازمین بھی تصادم کے دوران زخمی ہوئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ طلباء توڑ پھوڑ اور آتشزدگی میں ملوث پائے گئے۔ تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب جمعرات کو چھیڑچھاڑ کے واقعہ کے خلاف بعض طلبہ احتجاج کررہے تھے۔ یہ طلباء کل رات وائس چانسلر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ پولیس اور یونیورسٹی ذرائع کے مطابق طلباء کے گروپ کو سکیورٹی گارڈز نے روک دیا اور پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ بنارس ہندو یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ بعض طلباء زبردستی وائس چانسلر کی رہائش گاہ میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز نے انہیں روک دیا، اس کے ساتھ ہی باہر کے لوگوں نے سنگباری شروع کردی جو طلباء کے گروپ میں شامل ہوگئے تھے۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔ چیف منسٹر ادتیہ ناتھ نے لکھنؤ میں بتایا کہ انہوں نے ڈیویژنل کمشنر واراناسی سے رپورٹ طلب کی ہے، صحافیوں پر لاٹھی چارج کے خلاف لکھنؤ میں احتجاج کیا گیا۔ بعض صحافیوں نے چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے قریب ’’بیٹھے رہو‘‘ دھرنا دیا۔

بعدازاں انہوں نے پولیس کی اس غلطی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کو ایک یادداشت پیش کی۔ صدر سماج وادی پارٹی اکھیلیش یادو نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباء پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لاٹھی کا استعمال کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرے۔ خاطیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباء کیمپس میں چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے خلاف جمعرات سے احتجاج کررہے تھے۔ آرٹس فیکلٹی کی ایک خاتون طالب علم نے الزام عائد کیا کہ کیمپس کے اندر موٹر سائیکل پر تین افراد سوار تھے جنہوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی اور پھر چھیڑ چھاڑ کی جبکہ وہ اپنے ہاسٹل واپس ہورہی تھی۔ ان تینوں افراد اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش بھی کی لیکن مزاحمت پر وہ فرار ہوگئے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے مقام سے 100 میٹر کی دوری پر سکیورٹی گارڈس ٹھہرے ہوئے تھے لیکن انہوں نے اُن افراد کو نہیں روکا۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بی ایچ یو احاطے میں حالات کشیدہ لیکن کنٹرول میں ہے ۔ پولیس کی ایک بڑی تعداد وہاںتعینات کی گئی ہے ۔ یونیورسٹی کی کیمپس میں آنے جانے والوں پر نگرانی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بی ایچ یو کے مرکزی دروازے پر چھیڑخانی کی مخالفت میں گزشتہ دو دنوں سے دھرنے پر بیٹھیں طالبات رات اچانک مشتعل ہو گئیں۔ مشتعل ہجوم میں شامل کچھ شرارتی عناصر نے کئی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا جس سے حالات بے قابو ہونے لگے ۔ ادھر طلبہ نے بتایا کہ 18سے زائد طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کا علاج بی ایچ یو کے ٹراما سنٹر میں جاری ہے ۔ پولیس افسر نے بتایا کہ یونیورسٹی کیمپس میں حالت قابو میں ہیں، لیکن احتیاطا سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی کے انفارمیشن اور پبلک ریلیشنز آفیسر ڈاکٹر راجش سنگھ نے کہا کہ شرپسند عناصر نے سیاسی وجوہات کی وجہ سے پرتشددواقعات کو انجام دیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے علاوہ پولیس پورے معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے ۔عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس نے تقریبا 40 راؤنڈ ہوائی فائرنگ کی۔

TOPPOPULARRECENT