Saturday , July 29 2017
Home / شہر کی خبریں / بنک میں دوسروں کی رقومات جمع کرنا مہنگا پڑے گا

بنک میں دوسروں کی رقومات جمع کرنا مہنگا پڑے گا

گیاس سبسیڈی سے محرومی ، ٹیکس اور جرمانے بھی عائد ہوں گے
حیدرآباد۔11نومبر(سیاست نیوز) شہری کھاتوں میں دوسروں کے رقومات جمع کرتے ہوئے انہیں حاصل ہونے والی گیس سبسیڈی سے محروم ہو جائیں گے! حکومت ہند نے ملک میں 1000اور 500روپئے کے نوٹ کا چلن بند کرنے کے ساتھ ہی جو قوانین لاگو کئے ہیں ان کے مطابق 2.5لاکھ تک کی رقومات بینک کھاتہ میں جمع کروائی جا سکتی ہیں لیکن ان رقومات سے زیادہ رقم جمع کروانے کی صورت میں اس رقم پر ٹیکس اور بعض صورتوں میں جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے لیکن شاطر دولتمند طبقہ کی جانب سے ان غریبوں کا استحصال کیا جا رہا ہے جو کھاتے تو رکھتے ہیں لیکن ان میں رقومات نہیں ہوتی اور معصوم غریب ان کھاتوں کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں لیکن انہیں ایسے کسی بھی عمل سے قبل یہ جان لینا چاہئے کہ حکومت انہیں گیس سبسیڈی اس لئے دے رہی ہے کیونکہ وہ سطح غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں لیکن اگر وہ اپنے کھاتوں میں بری رقومات داخل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کھاتہ دار کے پاس موجود رقم کی تفصیل تو میسر آجائے گی لیکن کھاتہ سے منسلک آدھار کارڈ اور اسی سے منسلک گیس سبسیڈی یکسر ختم کردی جائے گی۔حکومت کے ذرائع کے بموجب گیس سبسیڈی حاصل کرنے والوں میں ٹیکس دہندگان کی موجودگی کی اطلاع کے بعد حکومت نے جن دھن یوجنا کے تحت بینک کھاتے کھلوائے اور ان کھاتو ںکو آدھار اور گیس کنکشن سے منسلک کردیا ۔2014-15کے معاشی سروے کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے جن دھن یوجنا کے تحت کھاتوں کی کشادگی اور انہیں آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے عمل کے دوران گیس سبسیڈی حاصل کرنے والوں کے جملہ تناسب میں 24فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور حکومت نے دعوی کیا تھا کہ یہ 24فیصد افراد ایسے ہیں جو گیس سبسیڈی کے حصول کے مستحق نہیں ہیں بلکہ ان کی آمدنی 10لاکھ سے زائد ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت اب 1000اور500کی کرنسی تبدیل کرنے کے دوران بھی ایسے خاندانوں کی نشاندہی کرے گی جن کے کھاتوں میں سالانہ 10لاکھ سے تجاوز کرنے جتنی رقومات جمع ہو نے لگیں گی اگر ایسا ہوتا ہے تو سب سے پہلے گیس سبسیڈی بند کردی جائے گی۔         ( سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT