Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / بنگال اسمبلی انتخابات ‘ تیسرے مرحلہ میں 79.22 فیصد پولنگ

بنگال اسمبلی انتخابات ‘ تیسرے مرحلہ میں 79.22 فیصد پولنگ

تشدد میںسی پی ایم ورکر ہلاک ۔ چار افراد زخمی ۔ مرکزی وزیر بابل سپریو سے بدسلوکی
کولکتہ 21 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں آج اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں ووٹ ڈالے گئے ۔ 62 اسمبلی حلقوں کیلئے آج ہوئی رائے دہی میں 79.22 فیصد رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ رائے دہی کے موقع پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ۔ تشدد کے دوران سی پی ایم کا ایک حامی ہلاک ہوگیا جبکہ ایک دوسری پارٹی کے چار کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ایک سرکاری عہدیدار بردوان ضلع میں ایک بوتھ پر رائے دہندوں کی قطار کی نگرانی کیلئے متعین تھا اور وہ دوران ڈیوٹی لو لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا ۔ بردوان ضلع ہی میں ایک بوتھ سے پریسائیڈنگ آفیسر کو ہٹا دیا گیا کیونکہ پولنگ ایجنٹس نے شکایت کی تھی کہ وہ رائے دہی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔

مرکزی وزیر بابل سپریو جب جورا سانکو حلقہ اسمبلی میں پہونچے اور اپنی والدہ کے ساتھ اپنا ووٹ ڈالنا چاہتے تھے ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے ان کے ساتھ دھکم پیل کی ۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس کو وہاں فوری روانہ کیا گیا اور صورتحال پر قابو پایا گیا ۔ مرشد آباد ضلع میں ڈومکل اسمبلی حلقہ میں ایک بوتھ سے تقریبا 500 میٹر کے فاصلے پر سی پی ایم کے ایک کارکن کی نعش دستیاب ہوئی ۔ اس کی تہید الاسلام کی حیثیت سے شناحت ہوئی ہے ۔ کولکتہ میں ترنمول کانگریس لیڈر انور خان کو چیف الیکٹورل آفیسر سنیل گپتا کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا کیونکہ ایک ٹی وی چینل پر انہیں پارٹی ورکرس  سے فون پر بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔ بردوان میں پیش آئے علیحدہ پر تشدد واقعات میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔ سی پی ایم کے ایک ورکر کا کان کاٹ دیا گیا جبکہ ایک اور پارٹی کے کارکن کے پیر میں فریکچر آگیا ۔ سی پی ایم کے دوسرے دو ورکرس مبینہ طور پر ایک بم حملہ میں زخمی ہوگئے ۔ ضلع الیکشن آفیسر سمترا موہن نے کہا کہ چار افراد کو اس سلسلہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ کھنڈا گھوش حلقہ اسمبلی میں پریسائیڈنگ آفیسر کو بدل دیا گیا کیونکہ پولنگ ایجنٹس نے شکایت کی تھی کہ وہ رائے دہی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کولکتہ پولیس نے 7 انتخابی حلقوں میں رائے دہی کو چند ایک پرتشدد واقعات کے سوائے بحیثیت مجموعی پرامن قرار دیا اور کہا کہ کوئی بڑے پرتشدد واقعات کی انتخابی حلقوں سے اطلاع نہیں ملی۔

TOPPOPULARRECENT