Monday , August 21 2017
Home / مضامین / بنگال: مجروح مذہبی جذبات کے ٹھیکیداروں کو بائی بائی کہہ دیجئے

بنگال: مجروح مذہبی جذبات کے ٹھیکیداروں کو بائی بائی کہہ دیجئے

 

رویش کمار
فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کے لئے بنگال نئی خوراک ہے۔ وہ کبھی برابری تو کبھی خاموشی کے نام پر اس خوراک کو استعمال کررہے ہیں۔ ان کے لئے بنگال کا تشدد اکثریتی فرقہ واریت پر حملہ کرنے والوں کا مذاق اڑانے کا موقع ہے۔ انہیں کب اور کس نے یہ بات کہہ دی ہے کہ جو اکثریتی فرقہ واریت کا مخالف ہے وہ اقلیتی فرقہ واریت کا خفیہ حامی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خود اکثریتی فرقہ واریت پر خاموش رہے ہیں اور اقلیتی فرقہ واریت پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ دراصل یہ ایک چال ہے۔ جو فرقہ واریت کا مخالف ہوتا ہے وہ ہر طرح کی فرقہ واریت کا مخالف ہوتا ہے۔ لیڈر ضرور سیکولر کمیونل کے نام پر اس کے مختلف فوائد اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر شہریوں کی مخالفت ہر طرح کے تشدد سے ہوتی ہی ہے اور جب شہری فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں اقلیتی فرقہ واریت کا حامی بتانے کے لئے اتنی محنت اس لئے ہوتی ہے کہ کوئی نہیں چاہتا کہ فرقہ واریت کی دکان بند ہو۔ زیادہ فائدہ اکثریتی فرقہ واریت کو ہوتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ اپنے مخالفین کو موقع پرست اور ٹھگ ٹھہرانے میں لگی رہتی ہے۔
بشیرہاٹ کا تشدد بنگال سے آیا پہلا فرقہ وارانہ واقعہ نہیں ہے۔ اتنے واقعات کے بعد اب وزیر اعلی ممتا بنرجی سے دو ٹوک پوچھا جانا چاہئے کہ فرقہ واریت سے نمٹنے میں بنچ مارک کیا ہے؟ کب اور کہاں ایسی کارروائی کی ہے جس سے پورے بنگال میں میسیج گیا ہو کہ فرقہ واریت کی صورت میں ممتا کسی کو نہیں چھوڑتی ہیں۔ انتظامیہ چھوڑ دیجئے، ان کی سیاسی تنظیم تو گاؤں گاؤں میں موجود ہے۔ کیا وہ بھی سکون اور بات چیت کے پیغامات کو لوگوں تک لے جانے میں ناکام ہو رہے ہیں؟ یا وہ بھی اس کھیل کا فائدہ اٹھا رہی ہے؟ ترنمول کے ایم پی، ایم ایل اے اور خود وزیر اعلی کولکتہ اور اس سے باہر دونوں قسم کی فرقہ واریت کے خلاف لڑنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ یقینی طور پر اس صورت میں ممتا بنرجی کا کوئی معیار نہیں ہیں۔ وہ بھی سمجھوتہ کرتے دکھائی دیتی ہیں جیسی باقی حکومتیں کرتی ہیں۔

بشیرہاٹ کی تصاویر دیکھ کر نہیں لگتا کہ جو بھیڑ تھی وہ پولیس کے بس کی نہیں تھی۔ ضرور ممتا کی پولیس بھی الور اور دادری کی پولیس کی طرح حکومت کے مطابق سیاسی حساب کتاب لگانے میں وقت گنوا دیتی ہوگی اور شہر کا ایک حصہ جل جاتا ہوگا۔ بنگال کاتشدد کا پیٹرن طے سا لگتاہے۔ کچھ دکانیں جلا دی جائیں گی، گھر پر پتھراؤ ہوں گے، پولیس تھانہ پھونک دیا جائے گا اور پولیس کی گاڑیاں جلے گی۔ ہندو مسلم مذہبی جلوسوں پر باری باری ہلکے بم پھینک کر حملہ ہوا ہے۔ جان تو کم جاتی ہے مگر مال کا نقصان ہو جاتا ہے۔ جلے ہوئے مکان اور دکان طویل وقت کے لئے علاقے میں فرقہ وارانہ علامت کی گندی کتاب کے طور پر سب کو نظر آتے رہتے ہیں۔ بنگال میں نئے نئے مذہبی جلوسوں کا پیمانہ بتا رہا ہے کہ بنگال کی دھارمک اتسو میں فرقہ وارانہ جنون پیدا کرنے کا وہی پرانا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جسے کئی سال پہلے شمالی ہندوستان میں کھیلا جا چکا ہے۔ بنگال میں رام نومی منائی جاتی تھی مگر اس کی آڑ میں ہتھیاروں اور پٹاخوں کا جو جارحانہ مظاہرہ ہو رہا ہے اس کو نظر انداز کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس سوال کا بھی حل تلاش کرنا ہوگا کہ بنگال میں رجعتی جارحیت جگہ کیوں بنا رہی ہے، کیا اس وجہ سے کہ بنگال میں اقلیتی جارحیت حقیقی ہوتی جا رہی ہے یا اس کا بھرم پھیلا کر اکثریتی جارحیت کی جڑوں میں کھاد پانی دیا جا رہا ہے؟
ممتا نہ تو اقلیتی تکثیریت کے الزامات یا افواہوں پر لگام کس پا رہی ہیں اور نہ ہی اکثریتی جارحانہ رویوںپرروک لگا پا رہی ہیں۔ آخر فرقہ واریت کو روکنے میں اکثریتی ووٹوں کی حکومتوں کی طرح اقلیتی ووٹوں کی حکومتیں بھی کیوں لاچار نظر آتی ہیں؟ کالی درگا کا بنگال رامنومی میں اپنا’’ پرش ارتھ‘‘ کیوں تلاش کر رہا ہے؟ تہوار کی آڑ میں فرقہ وارانہ جنون کا مظاہرہ کرنے کی یہ چال بہت باریک ہے جسے مسترد کرنے کے لئے ایک ہی سوال کافی ہے کہ تو کیا ہم اپنے تہوار بھی نہ منائیں؟۔ اور کس طرح منائیں یہ آپ طے کریں گے؟۔ جیسے بھی منائیں لیکن آنکھیں کھول کر دیکھ لیجئے کہ منانے والوں کا ارادہ کیا ہے۔

بنگال میں مسلم سماج کے پاس سیاسی قیادت ہے۔ ترنمول کانگریس نے مسلمانوں میں اپنی جگہ بنائی ہے اور نمائندگی دی ہے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن بنگال کے مسلم سماج کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے اندر سے کس طرح کی سیاسی قیادت پیداہورہی ہے۔جہاں حالیہ واقعات پیش آئے ہیںوہاں کے رکن پارلیمنٹ اور سابق رکن پارلیمنٹ کی شبیہ بہت اچھی نہیں ہے۔دونوں کے درمیان ترنمول کے اندر اندر اپنی دعویداری بڑھانے کی کوشش کے کردار کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ مسلم سماج کو مذہبی شناخت کی قیادت کرنے والے رہنماؤں سے چھٹی کر دینا چاہئے۔ مختلف جماعتوں میں سیاسی شناخت کے سہارے کم اور مذہبی شناخت کے دم پر اپنی حیثیت بلند کرنے کا راستہ تلاش کرنے والے یہ رہنما پورے سماج کو عدم تحفظ کی آگ میں جھونک رہے ہیں۔ ان سب کو کھدیڑ دینے کا وقت آ گیا ہے۔ جس طرح ہندو مذہبی رہنماؤں کی سیاست میں کوئی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح سے مسلم مذہب گرووں کی بھی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ سیکولر لیڈروں کو ان سے سیاسی ملاقاتیں بند کر دینی چاہئے۔
اسی 6 جولائی کو دہلی میں سابق آئی اے ایس افسر افضل امان اللہ کی قیادت میں 11 مسلم علماء کرام اور صحافیوں نے مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر مختار عباس نقوی کو تعلیم کو لے کر 148 صفحات کی ایک رپورٹ سونپی ہے۔ اس میں ایک بھی دھر م گرو نہیں ہے۔ مولانا لوگ سچر سچر کرتے رہے اور اسی فکر میں رہے کہ وزیر اعظم یا سونیا گاندھی کسی طرح ایک اجلاس میں بلا لیں اور تصویرکشی ہوجائے۔ اسی وجہ بھی مسلم معاشرے کا ضروری مسئلہ پیچھے چھوٹ گیا اور ان کی قیادت بدنام ہوئی۔ بہتر ہے وہ اپنے اندر پیشہ ورانہ سیاستدان پیدا کریں۔
سست روی کے سا تھ ہو رہی اس تبدیلی کو تیز کرنا ہوگا۔ جو مذہب کے ٹھکیدارہیں، ان کو بے شک مذہبی حیثیت دیں لیکن ان کے اندر سیاستدان نہ تلاش کریں، ورنہ اقلیتی فرقہ واریت کی بڑی سہیلی اکثریت فرقہ واریت دروازے پر کان لگا کر سن رہی ہے کہ اندر کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ خود دوسرے درجے کے بدزبان اکثریتی مذہبی رہنماؤں کو آگے کرے گی لیکن اقلیتوں کے درمیان سے ایک ٹوپی دکھا کر اکثریتی ووٹ لے لیتی ہے۔ روزگار اور دوسرے مسائل منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

بنگال اسے سمجھ بھی رہا ہے مگر مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ عناصر کی مناسب طریقے سے تنبیہ نہیں ہوپا رہی ہے۔ اسی مئی مہینے میں ٹیپو سلطان مسجد کے امام کے بیانات کو لے کر خوب ہنگامہ ہوا۔ مولانا برکاتی اپنی گاڑی سے لال بتی نہ اتارنے کی بات کہہ رہے تھے اور وزیر اعظم مودی کے خلاف الٹا سیدھا بیان دے رہے تھے۔ ٹی وی چینل کے لئے برکاتی اک نعمت بن گئے تھے۔ ٹیپو سلطان مسجد کے ٹرسٹی اور وہاں کے لوگوں نے اس کا راستہ نکال لیا۔ مولانا برکاتی ،ممتا بنرجی کی حمایت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے جب جمعہ کی نماز پڑھانے آئے تب لوگ کھڑے ہو گئے کہ آپ سے ہم نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مذہبی تنظیموں نے بھی فتوی دیا کہ امام کا کام مسجد میں نماز پڑھانا ہے نہ کہ سیاست کرنا۔ ممتا کو بھی برکاتی سے کنارہ کرنا پڑا اور لوگوں کے ساتھ دکھانے کے لئے اپنے وزیر صدیق اللہ چودھری کو مسجد کے باہر امام برکاتی کے خلاف نعرے لگانے کے لئے بھیجنا پڑ ا۔ معاشرے کے اندر سے فرقہ واریت سے لڑنے کا ایساواقعہ آپ ہندوستان کے کسی کونے سے بتا سکتے ہیں؟مسلم سماج کو دوسرے کا گھر دیکھے بغیر اپنے اندر سے سیاسی برائیوں کو ٹھیک کرنا ہی ہوگا۔ ان علماء پر نظر رکھئے جو ٹی وی میں جاکر فرقہ وارانہ بحثوں کا حصہ بنتے ہیں اور اناپ شناپ بولتے ہیں۔ جب ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا تو کہنے لگے کہ قوم کے لئے بولنے جا رہے ہیں۔ مسلم نوجوانوں نے پوچھا کہ کس نے قوم کا لیڈر آپ کو بنایا ہے۔ قوم کو سیاسی مسئلہ پر بولنے کے لئے سیاستدان ہی پیدا کرنے ہوں گے، دھارمک لیڈری کا دور چلا گیا۔ ویسے بھی یہ سیاست میں آکر صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ ہندو مسلم دونوں کمیونٹیز کو سیاستدان اور مذہبی رہنما میں فرق سمجھ لینا چاہئے۔ ورنہ ایک دوسرے کے جواب میں سیاست میں دونوں طرف سے فرضی مولانا اور بابا ہی رہنما بن کر سب کی قیادت کرنے لگیں گے۔
پرائم ٹائم میں بنگال کی تشدد پر بات کرنے کے لئے کولکتہ سے کسی علماء کونسل کے قومی سکریٹری اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے ترجمان عزیز اے مبارکی آئے۔ انہوں نے صاف صاف کہا کہ ان علماء کی حرکت کی وجہ سے مسلم سماج کے سامنے مشکلیں پیدا ہو رہی ہے۔ وہ جھارکھنڈ کے رام گڑھ گئے تھے جہاں گائے کے گوشت کے شک میں ایک مسلم نوجوان کو بھیڑ نے مار دیا تھا۔ اس نوجوان کی بیوہ اور بچوں کی مدد کے لئے کوئی مولانا یا جلوس نہیں نکلا لیکن فیس بک پوسٹ کو لے کر جذبات مجروح ہو گئیں۔ ایک بیوہ کی مدد کر کے ہم اپنے ذمہ داریوںکے تئیں فرض ادا کریں گے یا فیس بک پوسٹ کو لے کر پڑوسیوں کے گھر جلا کر۔ کملیش تیواری کے بیان کے تناظر میں ایسی حماقت ہو چکی ہے، جلوس نکالے، نعرے بازی ہوئی اور کئی مقامات پر تشدد بھی ہوا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا، کیا کسی کا بھلا ہوا؟ بے شک مذمت کیجیے، تھانے جائیں اور ممکن ہو تو کبھی کبھی اس بات کے لئے بھی جائے کہ آپ نے ہمارے بزرگوں کی توہین کی ہے، ہم آپ کو معاف کرتے ہیں۔ یہ بھی کرکے دیکھ لیجئے، زیادہ اثر پڑے گا۔
گئو رکھشک کے نام پر تشدد اور فیس بک پوسٹ پر تشدد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بنگال اندر اندر سلگ رہا ہے۔ ممتا بنرجی جان لیں، اس کے جواب میں اکثریت فرقہ واریت کا دائرہ بہت بڑا ہوتا ہے، وہ ایسی لچر سیکولر طاقتوں کو دو منٹ میں نگل جاتا ہے۔ بنگال کا ہوشیار بھدر لوک اب نیا ٹھکانہ تلاش کر رہا ہے۔ وہ کمیونسٹ بنگال میں بھی’’ بھدر لوک‘‘ بنا رہا، ممتا کے مبینہ طور پر بدامنی کا شکاربنگال میں بھی بنا ہوا ہے اور اب فرقہ وارانہ بنگال کا استقبال کرنے کی تیاری میں بیٹھا ہے۔ ان فرقہ وارانہ واقعات کے بہانے جس طبقے کی سیاسی بات چیت میں فرقہ واریت کے آنے کا ذکر ہو رہا ہے، وہ یہی طبقہ ہے۔ صحیح بات ہے کہ یہ ممتا بنرجی کو ان کی سادگی پسندی کی وجہ پسند نہیں کرتا۔ اس کو ممتا کا کچھ بھی اچھا نہیں لگتا اور فرقہ وارانہ کوششوں میں اسے کچھ بھی برا نہیں لگتا ہے۔ وہ صرف اسے جائز ٹھہرانے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے جسے بشیرہاٹ کے واقعہ نے پھر سے فراہم کر دیا ہے۔
یہ تصور غلط ہے کہ بنگال کے تشدد کے خلاف کوئی نہیں بول رہا ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو بنگال کی تشدد پر مبینہ خاموشی کا لطف لے رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جنید کے قتل کو صحیح یا اس قتل کے احتجاج کو غلط ٹھہرانے کا اٹوٹ منطق مل گیا ہے۔ یہ لوگ جہاں کہیں بھی اپنی رائے درج کرتے ہیں، وہاں جاکر دیکھئے کہ کیا انہوں نے بنگال کے ہی اسلام پور میں گائے چوری کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں کے قتل پر کچھ لکھا ہے، جنید کے قتل پر کچھ لکھا تھا، پہلو خان کے قتل پر کچھ لکھا تھا، انہوں نے جھارکھنڈ کے اتم اور گنگیش کے قتل پر بھی نہیں لکھا جسے ہجوم نے بچہ چوری کی افواہ میں مار دیا تھا۔ کسی کو بھی اصل بات یہی سمجھنا ہے، تشدد اور نفرت کی آگ جس طرف بھی لگے، وہ دوسری طرف بھی جاتی ہے۔ اپنی طرف لگے گی تو ان کی طرف بھی جائے گی۔ لہذا کسی منطقی شخص کے لئے خاموش رہنے کا کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT