Saturday , June 24 2017
Home / سیاسیات / بنگال میں پنچایت ولوک سبھا انتخابات جیتنے بی جے پی کی تیاریاں

بنگال میں پنچایت ولوک سبھا انتخابات جیتنے بی جے پی کی تیاریاں

تین نکاتی حکمت عملی کی تیاری ‘ یو پی کے قائدین سے مشاورت ۔ مرکزی حکومت کے منصوبوں کی تشہیر کیلئے کارکنوں کا انتخاب

کولکتہ 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگال کے آئندہ سال ہونے والے دہی انتخابات اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش کی طرح بی جے پی کو کامیاب بنانے کے مقصد سے بی جے پی ریاست میں سرگرم ہو رہی ہے اور اپنے اترپردیش کے قائدین سے مشورے لیتے ہوئے تین نکاتی حکمت عملی تیار کر رہی ہے تاکہ بنگال میں ترنمول کانگریس کا اصل متبادل بن سکے ۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے کہا کہ اترپردیش میں زبردست کامیابی کے بعد ہماری توجہ اب بنگال پر رہے گی جہاں خوشامد کی پالیسی اور کرپٹ ممتابنرجی حکومت عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ عوام اس حکومت سے بیزار ہوچکے ہیں اور ایک تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ ریاست کے 10 اضلاع میں لا اینڈ آرڈر پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے اور بنگال قوم مخالفین کا مرکز بن گیا ہے ۔ بی جے پی ذرائع کے بموجب پارٹی اضلاع اور اپنی محاذی تنظیموں میں تبدیلیوں کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ وجئے ورگیہ کے خیالات کی بی جے پی کی ریاستی مہیلا مورچہ کی صدر و رکن پارلیمنٹ روپا گنگولی نے بھی حمایت کی جن کا ماننا تھا کہ بنگال کے عوام ایک ایسی سیاسی طاقت کے بے چینی سے منتظر ہیں جو ترنمول کانگریس کی متبادل بن سکے ۔ روپا گنگولی نے کہا ہوسکتا ہے کہ ہماری تنظیم میں کچھ خامیاں ہوں لیکن جہاں کہیں کوئی واقعہ یا مسئلہ ہوتا ہے بی جے پی ہی سب سے پہلے سڑکوں پر اترآتی ہے ۔ بنگال بے چینی سے ایک سیاسی طاقت کی منتظر ہے تاکہ ترنمول کانگریس کا جواب دیا جاسکے ۔

بی جے پی کے قومی سکریٹری راہول سنہا نے کہا کہ اترپردیش کے انتخابات سامنے آچکے ہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بی جے پی سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے پارٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو دنوں میں ہم کو کئی قائدین سے فون کالس ملے ہیں جنہوں نے پارٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ اترپردیش کی کامیابی کے بنگال پر بھی اثرات مرتب ہونگے ۔ سنہا نے تاہم کہا کہ جو کوئی بی جے پی میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے پارٹی کی خصوصی اسکریننگ کمیٹی کی منظوری حاصل کرنی پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ریاست میں اچھی شبیہہ بنانے کیلئے دانشوروں اور عوامی چہروں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی کی جانب سے ایک دستہ تربیت یافتہ ورکرس اور کل وقتی کارکنوں کا تیار کیا جائیگا جو ہر ضلع میں مرکز کی نریندر مودی حکومت کی کامیابیوں کی تشہیر کرینگے اور ترنمول کانگریس کی غلط حکمرانی کو بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائیگا ۔ بی جے پی کے ایک ریاستی جنرل سکریٹری نے کہا کہ اسکریننگ کے عمل کا حال ہی میں آغاز کردیا گیا ہے جس کے ذریعہ سینکڑوں کل وقتی کارکنوں کو شامل کیا جائیگا ۔ پارٹی ذرائع کے بموجب ضلع قیادت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اختلافات فراموش کردیں اور ایک واحد یونٹ کی طرح کام کریں تاکہ پارٹی کی تنظیم کو مستحکم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع قیادت کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اضلاع میں آر ایس ایس سے وقفہ وقفہ سے رائے حاصل کریں جس سے ہمیں مزید کام کرنے اور نچلی سطح تک پہونچنے میں مدد ملے گی ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے امید ظاہر کی کہ ریاستی یونٹ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجہ میں پارٹی ریاست میں برسر اقتدار ٹی ایم سی کی واحد متبادل بن کر ابھرے گی ۔انہوں نے ادعا کیا کہ ہم ریاست میں اصل اپوزیشن ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT